امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کر دی

0
10

واشنگٹن (ایم این این): امریکا نے پاکستان سمیت 74 دیگر ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا کی پراسیسنگ 21 جنوری سے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے کہ ان ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن سرکاری فلاحی سہولیات پر انحصار کر سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس بات کو یقینی نہ بنا لیا جائے کہ نئے آنے والے افراد امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام حکومت کی “امریکا فرسٹ” پالیسی کا حصہ ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے بیان میں کہا کہ محکمہ اپنی طویل عرصے سے موجود قانونی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے ایسے ممکنہ تارکینِ وطن کو نااہل قرار دے گا جو امریکا میں عوامی وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 75 ممالک سے امیگریشن عارضی طور پر روک دی گئی ہے تاکہ ویزا پراسیسنگ کے طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے اور ایسے غیر ملکیوں کے داخلے کو روکا جا سکے جو سرکاری امداد پر انحصار کریں۔

متاثرہ ممالک میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، صومالیہ، ہیٹی، ایران اور اریٹریا شامل ہیں، جن کا تعلق ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکا کے مختلف خطوں سے ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق تمام امیگرنٹ ویزا زمروں پر ہو گا، جن میں خاندانی، ملازمت اور ڈائیورسٹی ویزے شامل ہیں۔

اس پابندی کے باعث ہر سال امریکا جانے کے خواہشمند ہزاروں پاکستانیوں کے سفری، تعلیمی اور ملازمت کے منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکا میں پاکستانی قونصل خانے آئندہ دنوں میں متاثرہ درخواست گزاروں کو رہنمائی فراہم کریں گے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام امریکا کے پبلک چارج قانون سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کوئی تارکِ وطن حکومتی امداد پر انحصار کرے گا یا نہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ویزا سروسز معطل کی گئی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس بار اقدام کا دائرہ کار غیر معمولی ہے۔

ویزہ سروسز کی بحالی کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ممالک کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں