اسلام آباد (ایم این این): وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ پاکستان کے جنگی طیاروں کی فروخت کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ فعال مذاکرات جاری ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ گزشتہ برس جنگ میں کامیابی کے بعد، جس سے ان کی مراد مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ چار روزہ فوجی تنازع ہے، پاکستانی جنگی طیاروں کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملکی دفاعی پیداوار کو فروغ ملے گا اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
حالیہ ہفتوں میں رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ پاکستان دوست ممالک کے ساتھ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت پر بات چیت کر رہا ہے۔ یہ طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پاکستان متعدد ممالک کے ساتھ جے ایف-17 کی فروخت کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے ان طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے ممالک کے نام یا مذاکرات کی سطح بتانے سے گریز کیا۔
رضا حیات ہراج نے کہا کہ معاہدے طے پانے کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ کون سے ممالک نے یہ طیارے خریدے ہیں، کیونکہ ایسے معاملات قومی سلامتی کے تحت راز میں رکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان صرف دوست ممالک کو ہی یہ طیارے فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین ہر ایسے معاہدے میں شامل ہوتا ہے، کیونکہ جے ایف-17 مشترکہ منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران جے ایف-17 کی کارکردگی کو دنیا بھر کی فضائی افواج نے دیکھا اور سراہا۔
قیمت کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ دنیا میں اسی نوعیت کے جنگی طیاروں کی قیمت 250 سے 350 ملین ڈالر تک ہوتی ہے، جبکہ جے ایف-17 نسبتاً سستا ہے۔ ان کے مطابق اس کی قیمت خصوصیات کے مطابق 40 سے 50 ملین ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔
چین کے حصے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام امور باہمی مشاورت سے طے کیے جاتے ہیں اور چین کا کردار اور حق تسلیم شدہ ہے۔
پیداواری صلاحیت سے متعلق سوال پر وزیر نے تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی دفاع سے متعلق راز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید طیاروں کی تیاری میں وقت لگتا ہے اور اس کے کچھ حصے پاکستان جبکہ کچھ چین میں تیار کیے جاتے ہیں۔
چین کے تھنک ٹینک کے ماہر اینار ٹینجن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ طیارے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر چین کا کنٹرول ہے، اس لیے برآمدی معاہدے مشترکہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور بیجنگ اس میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے فضائی سربراہان کے درمیان جے ایف-17 کی ممکنہ خریداری پر بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے عراق کا دورہ کیا جہاں عراقی قیادت نے طیارے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے کو جے ایف-17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ادھر انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران بھی دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ دفاعی تعاون سے متعلق سوال پر وزیرِ دفاعی پیداوار نے ستمبر 2025 میں ہونے والے پاک سعودی دفاعی معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ تاہم بلوم برگ کے مطابق ترکیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جو پاکستان، چین، سعودی عرب، ترکیے اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔


