صدر زرداری کی بحرینی بادشاہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ

0
12

اسلام آباد (ایم این این): صدر مملکت آصف علی زرداری نے بدھ کے روز منامہ میں بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور بحرین کے درمیان سیاسی، معاشی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

صدر زرداری منگل کو چار روزہ سرکاری دورے پر بحرین کے دارالحکومت پہنچے تھے۔ ایوانِ صدر کے مطابق ملاقات کے موقع پر القضیبیہ پیلس میں صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

بیان کے مطابق ملاقات میں تجارت و سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کے امور سمیت علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوانِ صدر کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامع بات چیت کی اور دوطرفہ روابط کو عملی پیش رفت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور بلوچستان کے وزیر زراعت میر علی حسن زہری بھی صدر کے ہمراہ تھے۔

اعلامیے کے مطابق بادشاہ حمد نے صدر زرداری کو پاکستان اور بحرین کے تعلقات کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں بحرین کا اعلیٰ ترین اعزاز، آرڈر آف شیخ عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ فرسٹ کلاس، عطا کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے بحرینی قیادت کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور بادشاہ کی پاکستان کے لیے مستقل خیرسگالی کو سراہا۔

صدر مملکت نے سیاسی، معاشی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور بادشاہ حمد کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دہرائی۔

تفصیلی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے عملی طریقوں پر غور کیا گیا۔ صدر زرداری نے مضبوط سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بحرینی سرمایہ کاروں کو زراعت، غذائی تحفظ، آئی ٹی، ڈیجیٹل سروسز، صحت، سیاحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے کردار کو اجاگر کیا۔

صدر نے بحرین کو پاکستان کا اہم معاشی شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ قریبی تعاون سے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی صلاحیت، افرادی قوت اور علاقائی رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

صدر زرداری نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کی مسلح افواج کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں اور اس شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ دنیا غیر یقینی اور تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جس میں اتحاد، دانشمندی، تحمل اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان اہم پل قرار دیتے ہوئے 1 لاکھ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو فراہم کی گئی سہولیات اور احترام پر بحرینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اسلام آباد میں قائم کنگ حمد یونیورسٹی فار نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز کو بحرین کی جانب سے ایک قیمتی تحفہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کی دوستی کی علامت کہا۔

دونوں رہنماؤں نے امن، استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر باہمی رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

صدر زرداری کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے بادشاہ حمد نے پاکستان اور بحرین کو برادر ممالک قرار دیا اور کہا کہ صدر کا دورہ دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق صدر زرداری اپنے دورے کے دوران بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم سلمان بن حمد آل خلیفہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ تجارت، دفاع، سیکیورٹی اور عوامی روابط میں تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں