روس کا برطانوی سفارتکار بے دخل، برطانیہ کو جاسوسی سرگرمیوں پر انتباہ

0
13

ویب ڈیسک (ایم این این): روس نے جمعرات کو ایک برطانوی سفارتکار کو بے دخل کر دیا، جس پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ غیر اعلانیہ طور پر برطانوی خفیہ اداروں کے لیے کام کر رہا تھا، جبکہ ماسکو نے واضح کیا کہ اپنی سرزمین پر جاسوسی سرگرمیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے مطابق مذکورہ سفارتکار ماسکو میں برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات تھا اور خفیہ طور پر انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ روسی میڈیا نے سفارتکار کی تصاویر بھی نشر کیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سفارتکار کو روس چھوڑنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے ماسکو میں برطانوی ناظم الامور ڈینی ڈولاکیا کو طلب کر کے اس معاملے پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ روس غیر اعلانیہ برطانوی انٹیلی جنس اہلکاروں کی سرگرمیوں کو قبول نہیں کرے گا اور خبردار کیا گیا کہ اگر لندن نے صورتحال کو بڑھایا تو اس کا سخت اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

یہ اقدام یوکرین جنگ کے تناظر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں روس اور مغربی ممالک ایک دوسرے پر جاسوسی مہمات تیز کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

برطانوی حکومت نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ دفترِ خارجہ نے روسی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سفارتی مشنز کے معمول کے کام میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں