خیبر پختونخوا میں دو کارروائیوں کے دوران 13 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

0
14

راولپنڈی (ایم این این) – سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعرات کو بتایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں 13 اور 14 جنوری کو کی گئیں، جن میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد مارے گئے۔ فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع کرم میں کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشت گردوں کو مؤثر طور پر جہنم واصل کر دیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اپیکس کمیٹی سے منظور شدہ عزمِ استحکام کے وژن کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل رواں ہفتے سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔

پاکستان کو بدستور دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دہشت گرد حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دہشت گردی سے متعلق اموات میں سالانہ بنیاد پر 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، جن میں پاک فوج، پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 14,658 آپریشنز خیبر پختونخوا، 58,778 بلوچستان اور 1,739 ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔ ان کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 5,397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 3,811 خیبر پختونخوا، 1,557 بلوچستان اور 29 دیگر علاقوں میں پیش آئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں