وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

0
14


اسلام آباد (ایم این این) — وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سرکاری صحت بیمہ اسکیم، معروف صحت کارڈ پروگرام، باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا۔

اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ سہولتیں عوام تک ان کی دہلیز پر پہنچنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کی بحالی ان کی حکومت کا عوامی خدمت کے لیے ایک اور فوری اقدام ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہی منصوبہ ہے جس کا آغاز 2016 میں میاں نواز شریف کی قیادت میں کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ اسکیم پنجاب، بلوچستان، سابقہ فاٹا اور اسلام آباد میں متعارف کرائی گئی تھی اور اس میں توسیع کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 2019 میں پی ٹی آئی حکومت نے اس پروگرام کو صحت انصاف کارڈ کے نام سے دوبارہ شروع کیا، جس میں سالانہ سات لاکھ بیس ہزار روپے تک علاج کی سہولت اور کم آمدنی والے افراد کی شمولیت شامل تھی۔

وزیراعظم کے مطابق وفاقی علاقوں میں یہ سہولت گزشتہ تین برس سے جزوی طور پر معطل رہی، جبکہ مارچ 2024 سے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مکمل طور پر بند تھی، جس کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ صحت زندگی کی سب سے قیمتی دولت ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے تعلیم، روزگار اور دیگر سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے صحت کارڈ دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال، سیکریٹری صحت اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امیر طبقہ تو مہنگا علاج کرا سکتا ہے، مگر عام آدمی، مزدور اور یتیم بچوں کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ بیماری کی صورت میں علاج نہ ہونے سے پورے خاندان کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ علاج کی سہولت ہر پاکستانی کا حق ہے اور امید ظاہر کی کہ شفاف نگرانی کے ذریعے اس پروگرام کو مؤثر انداز میں چلایا جائے گا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ سندھ کے وزیراعلیٰ سے بات کر کے وہاں بھی اس سہولت کو عملی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔

70 اسپتال شامل کیے جائیں گے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ پروگرام 2016 میں شروع ہوا تھا مگر وفاقی علاقوں میں تین سال سے نظرانداز رہا، جس کے باعث اس کی بحالی ضروری تھی۔

انہوں نے کہا کہ اب اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی اور شہری نقد رقم کے بجائے صحت کارڈ کے ذریعے علاج کرا سکیں گے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں ان تینوں علاقوں میں مجموعی طور پر 70 اسپتال شامل کیے جائیں گے، جبکہ ان علاقوں کے شناختی کارڈ رکھنے والے شہری کراچی کے 16 اسپتالوں میں بھی علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ واحد صوبہ ہے جہاں یہ کارڈ استعمال نہیں ہو رہا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے 10 شہری اور دیہی اضلاع کو منتخب کیا گیا ہے اور وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ دو سال کے لیے 24 ارب روپے بجٹ میں شامل کیے جائیں، جس کے بعد پروگرام کو خود کفیل بنایا جا سکے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں