مہنگی بجلی اور بھاری ٹیکسز سے صنعتی شعبہ شدید بحران کا شکار، ایف پی سی سی آئی کا انتباہ

0
12

اسلام آباد (ایم این این) — فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے جمعہ کے روز خبردار کیا ہے کہ بلند توانائی نرخوں اور بھاری ٹیکسوں کے باعث پاکستان کا صنعتی شعبہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں فیکٹریاں بند اور بے روزگاری میں ہو رہا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق دسمبر میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ 100 سے زائد اسپننگ ملز اور 400 سے زیادہ جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہو چکی ہیں۔ اس کی وجوہات میں غیر معمولی ٹیکسز، مہنگی بجلی اور چین سمیت دیگر ممالک سے کم قیمت پر درآمد ہونے والا کاٹن یارن اور فیبرک شامل ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مہنگی بجلی نے بالخصوص ٹیکسٹائل صنعت کو مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 150 بڑی ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے پر عائد کراس سبسڈیز فوری طور پر ختم کی جائیں اور پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود پہلے 9 فیصد اور بعد ازاں 7 فیصد تک کم کی جائے تاکہ صنعت اور سرمایہ کاری کو بحال کیا جا سکے۔

کاروباری رہنما ایس ایم تنویر نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی 2026 کی رپورٹ میں بھی اس تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی رسک ریٹنگ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملک میں کاروباری سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں، جبکہ چھوٹا اور درمیانہ کاروباری شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

ایس ایم تنویر نے ٹیکس پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نان فائلرز کو بینکوں میں رقوم جمع کرانے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی، جبکہ ٹیکس دہندگان پر بھاری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر بینکوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔

ایف پی سی سی آئی حکام نے خبردار کیا کہ اگر مہنگی بجلی کے مسئلے کو فوری حل نہ کیا گیا تو صنعتی شعبہ مکمل طور پر ٹھپ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور پاور ڈویژن پر تنقید کی کہ نیپرا کی جانب سے بجلی کے بنیادی نرخ میں کمی کے باوجود اس کا فائدہ صنعتی صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں اضافی بجلی دستیاب ہے، مگر استعمال نہ ہونے والی بجلی کے کیپیسٹی چارجز عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان میں صنعتی بجلی کا نرخ تقریباً 12.5 سینٹ فی یونٹ ہے، جبکہ بھارت میں یہی نرخ تقریباً 7.5 سینٹ ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ صنعت کو “وینٹی لیٹر سے اتارا جائے” اور برآمدی شعبے پر ٹیکس کم کیے جائیں تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

تجزیے کے مطابق پاکستان کا برآمدی شعبہ خطے کے سخت ترین ٹیکس نظام کا سامنا کر رہا ہے۔ برآمد کنندگان ایڈوانس انکم ٹیکس، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس، سپر ٹیکس اور متعدد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی رقوم کی ادائیگی میں بھی تاخیر معمول بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگی اور غیر یقینی توانائی قیمتیں برآمدات کی مسابقت کو مزید کمزور کر رہی ہیں، کیونکہ صنعتیں گھریلو صارفین کو سبسڈی دیتی ہیں، چوری اور نااہلی کے نقصانات برداشت کرتی ہیں اور غیر استعمال شدہ بجلی پر کیپیسٹی چارجز ادا کرتی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں