ویب ڈیسک (ایم این این)- امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے غزہ کے لیے نیشنل کمیٹی برائے انتظامیہ (این سی اے جی) کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے اپنے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ 20 نکاتی منصوبہ خطے میں دیرپا امن، استحکام، تعمیرِ نو اور خوشحالی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق این سی اے جی کی قیادت ڈاکٹر علی شعث کریں گے، جو ایک معروف ٹیکنوکریٹ رہنما ہیں۔ وہ غزہ میں بنیادی عوامی خدمات کی بحالی، سول اداروں کی تعمیرِ نو اور روزمرہ زندگی کے استحکام کی نگرانی کریں گے، جبکہ طویل المدتی اور خود کفیل نظامِ حکمرانی کی بنیاد رکھیں گے۔ ڈاکٹر علی شعث کو پبلک ایڈمنسٹریشن، معاشی ترقی اور عالمی امور میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) سے ہم آہنگ ہے، جس میں صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی توثیق اور بورڈ آف پیس کے قیام کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔ بورڈ آف پیس منصوبے کے تمام نکات پر عملدرآمد، عالمی وسائل کی فراہمی اور احتساب کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔
منصوبے پر عملدرآمد کے لیے صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ایک ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سیکریٹری مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، سر ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔ بورڈ کے ارکان حکمرانی، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری اور مالی وسائل سے متعلق شعبوں کی نگرانی کریں گے۔
آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرونبام کو بورڈ آف پیس کے سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے، جو روزمرہ حکمتِ عملی اور آپریشنز کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
نکولائے ملادینوف کو غزہ کے لیے ہائی ریپریزنٹیٹو مقرر کیا گیا ہے، جو بورڈ آف پیس اور این سی اے جی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گے اور حکمرانی، تعمیرِ نو اور ترقیاتی امور کی نگرانی کریں گے۔
سیکیورٹی اور امن کے قیام کے لیے میجر جنرل جیسپر جیفرز کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو امن و امان، غیر فوجی ماحول کے قیام اور انسانی امداد کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنائیں گے۔
اس کے علاوہ غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، ترک وزیرِ خارجہ حاکان فدان، علی الثوادی، جنرل حسن رشاد، سر ٹونی بلیئر، مارک روون، یو اے ای کی وزیر ریئم الہاشمی، نکولائے ملادینوف، یاکر گبے اور سیگرڈ کاگ شامل ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل، عرب ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس عبوری فریم ورک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ این سی اے جی، بورڈ آف پیس اور انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ منصوبے پر تیزی اور مؤثر انداز میں عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ مزید تقرریوں کا اعلان آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔


