وزیراعظم کا جدید ٹیکنالوجی اور چین کے تعاون سے زرعی شعبے میں تیز رفتار تبدیلی کا اعلان

0
12

اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبے میں بے پناہ مگر اب تک استعمال نہ ہونے والی صلاحیت موجود ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان–چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی معیشت ہے اور ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی اور کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید طریقۂ کاشت، مؤثر آبی نظم و نسق اور محدود زمینی وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، کسانوں، سائنسدانوں اور محققین کے درمیان مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کیا اگانا ہے اور کیا برآمد کرنا ہے، اس کا درست تعین، ویلیو چینز، کولڈ اسٹوریج، گوداموں اور ویلیو ایڈیشن کی ترقی سے پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے چین کو پاکستان کا مخلص دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور جدید مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے میرٹ پر منتخب ایک ہزار پاکستانی گریجویٹس کو چین کی ممتاز زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں میں بھیجنا ایک تاریخی اقدام تھا، جو واپس آ کر کسانوں کو معیار، پیداوار اور ویلیو ایڈیشن بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔

چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، صنعت اور برآمدات کے شعبوں میں چین کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زرعی شعبے میں تجارتی سرپلس حاصل کرنے کا ہدف رکھنا ہوگا، جس میں چینی ماہرین کی معاونت اہم کردار ادا کرے گی۔

معاشی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کم ہو کر 4.5 فیصد، پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر آ چکا ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، اب پاکستان کو فیصلہ کن طور پر ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے صدر شی جن پنگ کے جلد دورۂ پاکستان کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک 2.0 ایک نیا باب ہوگا، جس میں زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، معدنیات اور نوجوانوں کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔

اس موقع پر چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت کا حجم بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کو تجارتی سرپلس حاصل کرنے میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ سال پاکستان کی معیشت نے تین فیصد سے زائد ترقی کی، جبکہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ اہم معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور مہنگائی کم ہو کر تقریباً 4 فیصد تک آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دوطرفہ ایکشن پلانز کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی ترقی کو ترجیح دے رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے شعبوں میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت چینی سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری سہولت اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو صرف سرمایہ کاری کی منزل نہیں بلکہ ایسی جگہ بنانا ہے جہاں چینی ادارے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ترقی، جدت اور کامیابی حاصل کر سکیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں