کابل (ایم این این): افغانستان کے دارالحکومت کابل کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے شہر نو میں واقع ایک ہوٹل کے اندر چینی زیرانتظام ریسٹورنٹ میں پیر کے روز ہونے والے دھماکے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے، حکام نے تصدیق کی۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکہ شہر نو کے تجارتی علاقے میں واقع ایک چینی نوڈلز ریسٹورنٹ میں ہوا، جہاں دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور سفارت خانے قائم ہیں۔
پولیس کے مطابق ریسٹورنٹ چینی مسلمان عبدالمجید، ان کی اہلیہ اور افغان شراکت دار عبدالجبار محمود کے اشتراک سے چلایا جا رہا تھا اور یہ زیادہ تر چینی مسلمان کمیونٹی کو خدمات فراہم کرتا تھا۔
خالد زدران نے بتایا کہ دھماکے میں ایک چینی شہری ایوب اور چھ افغان شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ دھماکہ ریسٹورنٹ کے کچن کے قریب ہوا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ریسٹورنٹ کے سامنے ملبہ بکھرا ہوا اور عمارت کے اگلے حصے میں ایک بڑا شگاف دکھائی دے رہا ہے، جہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔
انسانی ہمدردی کی تنظیم ایمرجنسی کے افغانستان میں کنٹری ڈائریکٹر ڈیجان پینک کے مطابق اسپتال میں 20 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے سات افراد دم توڑ چکے تھے، جبکہ زخمیوں میں چار خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
دھماکے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، جبکہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان میں صدر آصف علی زرداری نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جلد صحتیابی کی دعا کی۔
صدر نے افغانستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو شدید سکیورٹی خدشات کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر زرداری نے دوحہ امن معاہدے کے تحت طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق وعدوں کی عدم تکمیل کی نشاندہی کی، خصوصاً افغان سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکامی پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بارہا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دی جائیں اور خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
صدر نے مزید کہا کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے باعث تاجکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طالبان کی جانب سے جامع اور نمائندہ حکومت قائم نہ کرنا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
واضح رہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سکیورٹی کی بحالی کے دعوؤں کے باوجود افغانستان میں بم دھماکے اور حملے جاری ہیں، جن میں سے کئی کی ذمہ داری داعش کے مقامی دھڑے نے قبول کی ہے۔


