عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم کر کے اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کا رخ کر لیا

0
11

راولپنڈی (ایم این این): قید پی ٹی آئی بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں نے منگل کو اڈیالہ جیل کے قریب جاری دھرنا ختم کر دیا اور اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کی قیادت کے لیے روانہ ہو گئیں۔

پی ٹی آئی کارکنان، حامیوں اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے منگل اور جمعرات کو جیل کے قریب دھرنے حالیہ ہفتوں میں معمول بن چکے تھے، کیونکہ خاندان کا مؤقف ہے کہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کی اجازت مسلسل نہیں دی جا رہی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 24 مارچ 2025 کو حکم دیا تھا کہ عمران خان سے منگل اور جمعرات کو ہفتے میں دو بار ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نیازی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ اب تک ان سے ملاقات نہیں کر سکیں۔

منگل کی شب پی ٹی آئی کے میڈیا کوآرڈینیٹرز نے بتایا کہ عمران خان کی بہنوں نے اچانک دھرنا ختم کیا اور مری روڈ کی جانب اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کے لیے روانہ ہو گئیں۔ ان کے مطابق اس اقدام کا کوئی طے شدہ منصوبہ نہیں تھا اور یہ فیصلہ بہنوں نے خود کیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر جاری ویڈیو میں متعدد گاڑیوں کو علاقہ چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ کارکنان اور حامی پیدل ہی آگے بڑھتے رہے۔ ویڈیو کے ساتھ جاری پیغام میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو آج بھی اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد بہنیں اور کارکنان احتجاج کے لیے اسلام آباد روانہ ہوئے۔

اس سے قبل دن کے وقت پی ٹی آئی رہنماؤں کو فیکٹری چوک کے بجائے ڈی ایچ اے ناکہ پر روک لیا گیا۔ مظاہرین نے وہاں قرآن خوانی کی اور بعد میں انہیں کچھ آگے جانے کی اجازت دی گئی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ ابتدا میں راستہ بند تھا جس کے باعث انہیں کچی سڑک استعمال کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں بھی پولیس روکے گی، وہیں قرآن خوانی کی جائے گی۔

عظمیٰ خان نے کہا کہ 8 فروری کو، جب پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے، پورا پاکستان جام ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں اور کارکنان عمران خان کی تربیت کے باعث پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی وجہ سے قید کیا گیا، جبکہ ان کے بقول بیرونِ ملک سے ہدایات ملنے پر آپریشن کیا جا رہا ہے۔ عظمیٰ خان نے پولیس پر اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی حامیوں سے رشوت طلب کرنے اور 9 مئی کے بعد کارکنان کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 8 فروری کو لاہور میں بسنت کے موقع پر عمران خان کے نام اور تصویر والی پتنگیں اڑائی جائیں۔

علیمہ خان نے صحافیوں کو بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ وکالت نامے پر دستخط کی اجازت نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا مطالبہ ملاقات نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے کہا کہ ماضی میں کارکنان کو جیل سے تین کلومیٹر دور روکا جاتا تھا، مگر منگل کو انہیں آٹھ کلومیٹر دور روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن احکامات پر عمل نہیں ہو رہا۔

شفیع اللہ جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں اور ان کے خلاف شروع کی گئی مہم ناکام ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر عامر مغل نے کہا کہ عمران خان عوام اور نوجوانوں کی خاطر جیل میں ہیں۔ انہوں نے عوام سے احتجاج کے لیے گھروں سے نکلنے کی اپیل کی اور بتایا کہ وہ 60 ایف آئی آرز کے باوجود ہر منگل کو اڈیالہ جیل پہنچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو پورا ملک بند کیا جائے گا اور عمران خان کے منتخب کردہ رہنماؤں سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی مکمل حمایت کی جائے گی۔

عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے خبردار کیا تھا کہ عمران خان کی حراست غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتی ہے اور پاکستانی حکام سے عالمی معیار پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں