متحدہ عرب امارات، بحرین اور بیلاروس صدر ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شامل

0
15

ویب ڈیسک (ایم این این): متحدہ عرب امارات، بحرین اور بیلاروس منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہو گئے، جس سے واشنگٹن کی نئی امن کوشش کو ابتدائی بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس نے بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے اور امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اس مشن میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ابو ظبی نے امریکا کی نئی تنازعات کے حل کی کوشش سے باضابطہ طور پر وابستگی اختیار کر لی ہے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ اس نے صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے بورڈ آف پیس میں بانی رکن کے طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔

دوسری جانب بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بورڈ میں شامل ہونے کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔ صدارتی ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں لوکاشینکو کو دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ ان کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ یوکرین میں امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ستمبر میں غزہ تنازع ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے پہلی بار بورڈ آف پیس کے قیام کی تجویز دی تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے عالمی رہنماؤں کو بھیجی گئی دعوت میں اس ادارے کے کردار کو عالمی تنازعات کے حل تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے مسودہ چارٹر کے مطابق، جو رائٹرز نے دیکھا، تین سال سے زائد مدت کے لیے رکنیت برقرار رکھنے کے خواہاں ممالک کو ایک ارب ڈالر کی مالی شراکت کرنا ہوگی۔

دعوت نامے میں چارٹر کی شمولیت پر بعض یورپی حکومتوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے، جس پر صدر ٹرمپ پہلے ہی عالمی تنازعات کے حل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

منصوبے کے مطابق بورڈ آف پیس کی صدارت تاحیات صدر ٹرمپ کے پاس ہوگی۔ رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی، تاہم ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی صورت میں انہیں مستقل رکنیت مل سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مستقل رکنیت ان شراکت دار ممالک کو دی جائے گی جو امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے گہری وابستگی کا مظاہرہ کریں۔

ادھر ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس موٹسفیلڈ کراوِک نے مقامی اخبار آفتن پوسٹن کو بتایا کہ ناروے موجودہ شکل میں اس منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا، جبکہ ناروے کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

برطانیہ نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دینے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ لندن کو پیوٹن اور ان کے اتحادی بیلاروس کے صدر لوکاشینکو کی ممکنہ شمولیت پر تحفظات ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پیوٹن یوکرین کے خلاف غیر قانونی جنگ کے جارح ہیں اور بارہا ثابت کر چکے ہیں کہ وہ امن کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں