اسلام آباد (ایم این این): سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نامزد ہونے کے چند گھنٹے بعد مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے منگل کو وکلا ایمان زینب مزاری حاضری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اور ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
یہ ملاقات اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے دفتر میں ہوئی، جس کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ان کی میڈیا گفتگو کی تفصیلات دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے، جہاں بنیادی حقوق، آئینی ضمانتیں اور انسانی وقار مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی، وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر سوال اٹھانے والی آواز کو دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین عوام کو اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دیتا ہے، مگر عوامی فیصلوں کو روند دیا جاتا ہے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک سیاسی، معاشی اور سماجی بحران میں گھرا ہوا ہے اور لوگ انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر اکثر وہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں کے عوام کے زخم ابھی تازہ ہیں، لیکن مذاکرات اور سیاسی دانش کے بجائے طاقت اور آپریشنز کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہائیوں سے جاری آپریشنز کے بعد کون سا مسئلہ حل ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب ناانصافی معمول بن جائے تو ریاستیں بکھرنے لگتی ہیں اور حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان پر رحم کریں اور اس کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں اور اگر کوئی اس پر آواز اٹھائے تو کیا اسے گولیوں، لاٹھیوں اور مقدمات سے جواب دیا جائے۔
انہوں نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مظلوموں کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو خاموش کرانے کے بجائے ان میں شعور اور آزادی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے چھ ماہ بعد ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کو بدنیتی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات عدلیہ کے وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سچ کو قید کر کے دبایا نہیں جا سکتا بلکہ ایسی آوازیں مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ جبر سے باز آئیں کیونکہ پاکستان مزید بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب جولائی 2025 میں بلوچ یکجہتی کونسل کے احتجاج سے متعلق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف درج مقدمہ منگل کو دوبارہ سامنے آیا، جس پر دونوں نے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دائر کیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد علی گیلانی نے بعد ازاں دونوں کو اپنے دفتر میں پناہ دی اور یقین دہانی کرائی کہ بار کے احاطے سے کوئی گرفتاری نہیں ہوگی، جبکہ پولیس کی بھاری نفری باہر موجود رہی۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس کے متنازع مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت بحال کر دی، جو 15 جنوری کو سیشن عدالت نے منسوخ کی تھی۔
پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں دونوں پر لسانی بنیادوں پر انتشار پھیلانے اور مسلح افواج کے خلاف تاثر دینے کا الزام ہے۔ عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ معطل کرتے ہوئے ان کا حقِ دفاع بحال کر دیا اور تین دن میں جرح مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔


