اسلام آباد (ایم این این) — پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کیے جائیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت پر کسی قسم کی شرائط عائد نہ کی جائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مذاکرات صرف چند مخصوص موضوعات تک محدود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو تمام معاملات پر کھلے دل سے گفتگو ہونی چاہیے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں حکومت سے مذاکرات کا اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ذمہ داری قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج سے متعلق فیصلوں کا اختیار اچکزئی اور ناصر عباس کو دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ مشاورت فراہم کریں گے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت واقعی اپوزیشن سے ہاتھ ملانا چاہتی ہے تو اسے خلوص کے ساتھ آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ اور مفاہمت کی دوہری پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے یہ معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم کہا تھا کہ بات چیت صرف جائز امور پر ہوگی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔
ادھر قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت کو تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل مسترد
دوسری جانب پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے الیکشن (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری کو شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ بل ارکان پارلیمنٹ کو سکیورٹی خدشات کے مبہم جواز کے تحت اپنے اثاثوں کی تفصیلات چھپانے کی اجازت دیتا ہے، جو حکمران طبقے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ایسے قوانین جمہوریت کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر کسی رکنِ پارلیمنٹ کو حقیقی سکیورٹی خدشات ہیں تو اس کا حل اثاثے چھپانا نہیں بلکہ جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ متنازع ترمیم فوری طور پر واپس لی جائے، کیونکہ شفافیت جمہوریت کی بنیاد ہے اور قوم کو اپنے نمائندوں کے اثاثوں کے ذرائع جاننے کا حق حاصل ہے۔


