ویب ڈیسک (ایم این این) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ پر بدھ کے روز عالمی سطح پر واضح اختلافات سامنے آ گئے، کیونکہ اس کا دائرہ کار غزہ سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ کئی مغربی یورپی ممالک نے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا، بعض نے ابھی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ مسلم اکثریتی ممالک کے ایک گروپ نے اس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
یورپی ممالک نے اس منصوبے کے وسیع اور متنازع کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، ناقدین کے مطابق یہ ادارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے عالمی تنازعات میں ثالثی کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس بورڈ کو ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈاووس میں باضابطہ طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ناروے اور سویڈن نے دعوت قبول نہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ فرانس پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔ اس کے برعکس مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ان کے رہنما اس بورڈ میں شامل ہوں گے۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مجموعی طور پر کتنے ممالک شمولیت اختیار کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے شامل ہونے کی توقع ہے، جبکہ 50 سے زائد کو دعوت دی گئی تھی۔ دیگر امریکی حکام کے مطابق 60 کے قریب ممالک کو دعوت دی گئی، مگر اب تک صرف 18 نے تصدیق کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ممالک بورڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اگرچہ بعض کو پارلیمانی منظوری درکار ہے۔ انہوں نے متنازع سمجھے جانے والے رہنماؤں کو دعوت دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بااثر لوگ ہیں جو نتائج دے سکتے ہیں۔
بورڈ کا ابتدائی تصور غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی تک محدود تھا، تاہم اب اس کے عالمی تنازعات میں کردار ادا کرنے کے امکانات پر بات ہو رہی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بورڈ میں شمولیت کی تصدیق کی، تاہم یہ فیصلہ ان کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اختلافات کو بڑھا سکتا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر مبنی عالمی نظام کو نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، روس، یوکرین اور چین نے تاحال اپنا مؤقف واضح نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کے متبادل سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔


