کراچی (ایم این این): متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے جمعرات کو وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو ملک کا “مالیاتی دارالحکومت” قرار دے کر اسے وفاقی علاقہ بنایا جائے۔
یہ بیان گل پلازہ آتشزدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد شہر کے انتظامی ڈھانچے اور بالخصوص بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے کراچی کو مالیاتی دارالحکومت قرار دیا جائے۔
آرٹیکل 148 وفاق اور صوبوں کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 149 وفاقی حکومت کو بعض حالات میں صوبوں کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے، خاص طور پر امن، نظم و نسق یا معاشی زندگی کو لاحق سنگین خطرات کی صورت میں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کی معاشی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے موجودہ صوبائی انتظامیہ کے تحت نہیں رکھا جا سکتا، اشارہ سندھ میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی کی جانب تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا ایک انتظامی دارالحکومت پہلے ہی موجود ہے، لیکن کراچی کو مالیاتی دارالحکومت بنایا جانا چاہیے، جبکہ صوبوں کے مطالبے پر بعد میں بات ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو شہر پورے ملک کی معیشت چلاتا ہو، اسے ایسے نظام کے تحت نہیں رکھا جا سکتا جو عوام کو حقوق سے محروم کر رہا ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرزِ حکمرانی سے ریاست کے خلاف نفرت جنم لے سکتی ہے، جس کا فائدہ دشمن قوتوں کو پہنچ سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی پر 18ویں ترمیم کے غلط استعمال کا الزام
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی پر 18ویں آئینی ترمیم سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ یہ ترمیم کراچی کے شہریوں کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے نام پر جاری یہ عمل ختم کیا جائے اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
گزشتہ سال منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم سے قبل ہونے والی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سمیت کابینہ کے کئی ارکان نے بلدیاتی اصلاحات کی حمایت کی تھی، تاہم پیپلز پارٹی نے انکار کرتے ہوئے دیگر شقوں کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی، جس سے تعطل پیدا ہوا۔
ایم کیو ایم-پی طویل عرصے سے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے اور اس نے 26ویں اور 27ویں ترامیم کی حمایت کو آرٹیکل 140 اے میں تبدیلیوں سے مشروط کیا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اب یہ تجاویز 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پیش کی جائیں گی۔
گل پلازہ سانحے پر قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی آوازیں اٹھیں، جہاں ایم کیو ایم-پی کے فاروق ستار نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کیا، جبکہ مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے بھی بہتر شہری نظم و نسق کے لیے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کی حمایت کی۔
گل پلازہ واقعے کو سیاسی رنگ دینے پر ایم کیو ایم-پی پر تنقید
دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے گل پلازہ آتشزدگی کو سیاسی رنگ دینے پر ایم کیو ایم-پی کو آڑے ہاتھوں لیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں اس افسوسناک واقعے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ سندھ حکومت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے یا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے ایسے واقعات رک جائیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر رہی اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بعض جماعتوں پر سنگین الزامات عائد کیے اور کہا کہ ایسے عناصر کو اس قسم کے بیانات زیب نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ ان الزامات کے جواب میں بولنا ضروری تھا، تاہم وہ مزید بحث میں الجھنا نہیں چاہتے۔
شرجیل میمن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وفاقی وزیر صحت ہونے کے باوجود مصطفیٰ کمال نے گل پلازہ کا دورہ کیوں نہیں کیا یا کسی مدد کی پیشکش کیوں نہیں کی۔
گل پلازہ سانحے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا اولین ہدف متاثرین کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنا اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیمتی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والی تقریباً 1,200 دکانوں کے حوالے سے حکومت قانونی یا غیر قانونی تعمیر کی بحث میں نہیں پڑے گی، بلکہ تمام متاثرہ تاجروں کی بحالی کو اپنی ذمہ داری سمجھے گی۔
شرجیل میمن کے مطابق حکومت متاثرہ دکانداروں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ریسکیو 1122 کو سال 2025 میں کراچی بھر سے آگ لگنے کے 1,094 واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ رواں ماہ اب تک 84 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کی وجوہات اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اگر کسی سطح پر کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


