ابوظہبی میں یوکرین، روس اور امریکا کے مذاکرات کا پہلا مرحلہ ختم

0
12

نیوز ڈیسک (ایم این این)- یوکرین، روس اور امریکا کے حکام کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دن مکمل ہو گیا، جس میں فریقین نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ابتدائی نکات پر تبادلہ خیال کیا۔

یوکرین کے چیف مذاکرات کار اور وزیر دفاع رستم عمروف نے کہا کہ بات چیت کا محور روس کی جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار اور باوقار و پائیدار امن کی جانب بڑھنے کے لیے آئندہ مذاکراتی عمل کا تعین تھا۔ انہوں نے کہا کہ مزید ملاقاتیں ہفتے کے روز ہوں گی۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مذاکرات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو واضح طور پر جنگ ختم کرنے کی سنجیدہ نیت ظاہر کرنا ہوگی، جبکہ وہ مسلسل مذاکراتی ٹیم سے رابطے میں ہیں۔

مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب روسی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ زاپوریزیا کے علاقے میں روسی گلائیڈ بم حملے میں ایک شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ یوکرینی فوج کے مطابق اس کے جواب میں روس کے پینزا ریجن میں تیل کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ روسی بمباری کے باعث دس لاکھ کے قریب افراد بجلی اور حرارتی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جس پر یوکرین کو ہنگامی جنریٹرز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ فرانس نے شدید سردی سے متاثرہ یوکرینی عوام کے لیے عالمی امداد جمع کرنے کی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔

مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ روس کا یہ مطالبہ ہے کہ یوکرین دونیتسک کے باقی ماندہ علاقے سے بھی دستبردار ہو جائے۔ زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ یوکرین وہ علاقے نہیں چھوڑے گا جن پر روس چار سال کی جنگ کے باوجود قبضہ نہیں کر سکا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ دونباس پر مکمل کنٹرول روس کی بنیادی شرط ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر دونیتسک کو اب بھی یوکرین کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں