کابینہ کی اجازت پر پاکستان ٹرمپ سربراہی امن کونسل کا حصہبن گیا: وزیراعظم

0
9

لندن (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی منظوری دے دی ہے، جس کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، جسے کابینہ سے مشاورت اور منظوری کے بعد قبول کیا گیا۔

اس سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک تقریب کے دوران پاکستان سمیت 19 ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے صدر ٹرمپ کے ہمراہ بورڈ کے قیام کے چارٹر پر دستخط کیے۔

بورڈ آف پیس کا قیام ابتدا میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد امن اور تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کے لیے کیا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے وسیع کردار کا تصور بھی شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اس امید کے ساتھ اس فورم میں شمولیت اختیار کی ہے کہ غزہ میں امن قائم ہوگا، فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق اور عزت ملے گی اور علاقے کی تعمیر نو کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر فوری عالمی توجہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فلسطینیوں کی حمایت کے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا۔

وزیراعظم نے ڈیووس کے دورے کو کامیاب قرار دیا اور آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کو بھی مثبت بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معیشت کے استحکام کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعمیری روابط جاری رکھے گا۔

علاقائی سلامتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جن کے بقول انہوں نے پاک بھارت جنگ کے امکانات کو روکنے میں کردار ادا کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون رانا ثناء اللہ نے بھی تصدیق کی کہ وفاقی کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد بورڈ آف پیس میں شمولیت کی منظوری دی۔

تاہم اس فیصلے پر سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی، جنہوں نے اسے قبل از وقت قرار دیا۔ قومی اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام اور غزہ کی تعمیر نو کے مفاد میں اس فورم میں شمولیت اختیار کی ہے۔

مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا، جس پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ غزہ اور فلسطین میں امن کے لیے مسلم ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کی شمولیت ایک سفارتی کامیابی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں