وادیٔ تیراہ سے متعلق جبری انخلا کی اطلاعات مسترد، حکومت کا واضح مؤقف

0
9

اسلام آباد (ایم این این): وزارت اطلاعات و نشریات نے وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔

وزارت کے مطابق حکومت نے ان رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط تاثر دینا اور سیاسی یا ذاتی مفادات کا حصول ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کی آبادی کو خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں، جن میں عام شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

وزارت نے کہا کہ ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی جبری نقل مکانی کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل جاری ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی آبادی خود شدت پسند عناصر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور علاقے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔

پس منظر بیان کرتے ہوئے وزارت نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت تقریباً 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔

یہ رقم وادیٔ تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ نقل و حرکت کی صورت میں پیشگی انتظامات کے لیے رکھی گئی ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک، نقد امداد اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز شامل ہیں۔

وزارت نے وضاحت کی کہ اس دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاس ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگوں کے ذریعے سامنے آئی۔ اس عمل میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور کیمپ قائم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے اس عمل کو مسلح افواج سے جوڑنے والے بیانات کو غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے سیاسی فائدے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جو سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی افسوسناک کوشش ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں