ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری و سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر وکلا کا احتجاج

0
7

اسلام آباد (ایم این این): متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں وکلا ایمان زینب مزاری ہازر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے خلاف پیر کے روز وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے کے باہر احتجاج کیا۔

احتجاج کی قیادت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد علی گیلانی نے کی۔ سینئر وکیل بابر اعوان، اسلام آباد بار کونسل، ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلا کی بڑی تعداد بھی احتجاج میں شریک ہوئی۔ مظاہرین نے “وکلا کے لیے انصاف” کے بینرز اٹھا رکھے تھے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بابر اعوان نے الزام عائد کیا کہ وکلا کے خلاف ریاستی اور پولیس جبر کیا جا رہا ہے، جو معاشرے اور نظام انصاف کے لیے نقصان دہ ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے مشترکہ طور پر ہڑتال کا اعلان کیا۔ تاہم ہائی کورٹ میں وکلا صرف فوری نوعیت کے مقدمات میں پیش ہوئے۔

احتجاج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر اور اطراف میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے، بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی جبکہ بکتر بند گاڑیاں بھی عدالت کے باہر کھڑی کی گئیں۔

وکلا کی ہڑتال کا معاملہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے روبرو ایک دیوانی مقدمے کی سماعت کے دوران بھی زیر بحث آیا۔ وکیل قیصر عباس گوندل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکلا کی گرفتاری کے خلاف بار نے ہڑتال کی کال دی ہے۔

جب چیف جسٹس نے پوچھا کہ کن وکلا کو گرفتار کیا گیا ہے تو قیصر عباس گوندل نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا نام لیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا انہیں وکیل سمجھا جا رہا ہے، جس پر کوئی جواب نہ دیا جا سکا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر بار انہیں وکیل سمجھتی ہے تو ان کے نمائندے چیمبر میں اپنا مؤقف پیش کر سکتے ہیں۔

وکلا کی ہڑتال کے باعث متعدد مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی۔

ایک علیحدہ بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری منظور ججہ نے کہا کہ ہڑتال کے تحت وکلا کو عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وکلا قافلے کی صورت میں ڈسٹرکٹ کورٹس جائیں گے اور بعد ازاں دوبارہ جمع ہو کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

ہفتے کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل ماجوکا نے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مختلف الزامات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق یہ مقدمہ 12 اگست 2025 کو اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں درج کرائی گئی شکایت سے شروع ہوا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ایمان مزاری نے دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں سے ہم آہنگ بیانیے پھیلائے، جبکہ ان کے شوہر پر ان پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں