پی ٹی آئی کا عمران خان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار، بینائی کو خطرے کی وارننگ

0
9

اسلام آباد (ایم این این) — پی ٹی آئی نے منگل کے روز ایک بار پھر جیل میں قید پارٹی بانی عمران خان کی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم ایک ایسی آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو اپنے اہلِ خانہ اور قریبی ساتھیوں سے بلا روک ٹوک ملاقات کی اجازت دی جائے اور انہیں اپنی پسند کے کسی مستند اسپتال میں فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث آنکھ کی رگ میں خطرناک حد تک رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق جیل میں معائنہ کرنے والے ماہر ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک نہایت سنگین اور حساس طبی مسئلہ ہے اور اگر اس کا بروقت اور درست علاج نہ کیا گیا تو عمران خان کی بینائی کو مستقل نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود جیل انتظامیہ ضد پر قائم ہے کہ علاج جیل کے اندر ہی کیا جائے، جبکہ ماہر ڈاکٹر یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اس نوعیت کے علاج کے لیے آپریشن تھیٹر اور جدید طبی سہولیات درکار ہیں جو جیل میں دستیاب نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ رویہ عمران خان کی صحت اور بینائی کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔

پارٹی نے یاد دلایا کہ عمران خان کو آخری مرتبہ اکتوبر 2024 میں اپنے ذاتی معالج تک رسائی دی گئی تھی اور اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود انہیں طبی معائنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بیان کے مطابق یہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ مزید کہا گیا کہ عمران خان کے باقاعدہ طبی معائنے سے متعلق ایک درخواست اگست 2025 سے زیر التوا ہے جسے جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر اہلِ خانہ اور قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ عوام کو ان کی صحت سے متعلق حقائق سے آگاہی مل سکے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ انہیں بغیر کسی تاخیر کے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال یا اپنی پسند کے کسی اور معتبر اسپتال منتقل کیا جائے جہاں مکمل طبی سہولیات اور ماہرین کی نگرانی میں علاج ممکن ہو۔

پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اڈیالہ جیل انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

دوسری جانب شوکت خانم اسپتال نے بھی ایک بیان میں عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے تاکہ ان کے علاج میں حصہ لیا جا سکے اور عوامی خدشات دور کیے جا سکیں۔

ادھر پی ٹی آئی کے اراکینِ قومی اسمبلی نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کی۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت متعدد رہنما عدالت پہنچے اور درخواست جمع کروانے کے لیے بایومیٹرک تصدیق مکمل کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ منگل کا دن عمران خان سے ملاقات کے لیے مختص ہے، تاہم بارہا رجوع کرنے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ قیدی سے ملاقات ایک بنیادی قانونی حق ہے جسے سیاسی تنازع نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اسی دوران عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیشی کا حکم دے دیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں