اسلام آباد (ایم این این) – مقامی موبائل فون اسمبلرز اور مینوفیکچررز نے ملک میں فائیو جی سروسز کے آغاز تک تقریباً 20 لاکھ فائیو جی اسمارٹ فونز کی دستیابی کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ حکومت فائیو جی کے کامیاب نفاذ کے لیے تیاریوں کو تیز کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت صارفین کے لیے فائیو جی موبائل فونز کو قابلِ استطاعت بنانے کے لیے قسطوں پر فروخت کے نظام کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ نیٹ ورک کی تیاری کے ساتھ ساتھ ڈیوائسز کی دستیابی کو ہم آہنگ بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
ابتدائی تیاریوں کے تحت مقامی سطح پر اب تک تقریباً پانچ لاکھ فائیو جی موبائل فونز اسمبل کیے جا چکے ہیں، جو کمرشل لانچ سے قبل ڈیوائس کے حوالے سے تیاری کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت نے مینوفیکچررز پر زور دیا ہے کہ وہ تقریباً 30 ہزار روپے سے شروع ہونے والے کم قیمت فائیو جی فونز متعارف کرائیں تاکہ بڑے پیمانے پر صارفین اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حکام کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی آئندہ ماہ کے اختتام تک متوقع ہے، جبکہ بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز آئندہ پانچ ماہ کے دوران شروع کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد مرحلہ وار دیگر علاقوں میں توسیع کی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے نمائندوں سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے موبائل ڈیوائس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ اجلاس کیا، جو ملک میں کام کرنے والی تقریباً 35 موبائل فون کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سام سنگ، ویوو اور اوپو سمیت پانچ کمپنیاں پہلے ہی فائیو جی موبائل فونز اسمبل یا تیار کر رہی ہیں، جبکہ دیگر کمپنیاں بھی جلد پیداوار شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
حکام نے کہا کہ ماضی میں فائیو جی سروسز کی عدم موجودگی کے باعث فائیو جی فونز کی طلب نہیں تھی، تاہم سروسز کے قریب آنے کے ساتھ ہی ان ڈیوائسز کی تیاری میں تیزی آ گئی ہے۔
حکومت نے صنعت کو ریگولیٹری اور آپریشنل مسائل کے حل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے درآمدات میں سہولت اور سرٹیفکیٹس آف کنفارمیٹی کے بروقت اجرا پر زور دیا۔
اجلاس میں حکومت کی جانب سے قسطوں پر موبائل فونز کی فروخت کی تجویز کو خوش آئند قرار دیا گیا، جبکہ مینوفیکچررز نے یقین دہانی کرائی کہ وہ 30 ہزار روپے سے شروع ہونے والے مقامی فائیو جی فونز کی پیداوار بڑھائیں گے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سستے فائیو جی فونز کی دستیابی، اسپیکٹرم کی بروقت نیلامی اور نیٹ ورک کی تیاری پاکستان میں فائیو جی کے کامیاب آغاز کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔


