داتا دربار کے قریب کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر خاتون اور شیر خوار بچی جاں بحق، تین افراد گرفتار

0
8

لاہور (ایم این این): داتا دربار کے قریب زیرِ تعمیر سیوریج لائن کے کھلے مین ہول میں گرنے کے افسوسناک واقعے میں ایک خاتون اور اس کی شیر خوار بچی جان کی بازی ہار گئیں، جبکہ پولیس نے جمعرات کو مقدمے میں نامزد تینوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق بھاٹی گیٹ تھانے میں مقتولہ کے والد ساجد کی درخواست پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں تعمیراتی منصوبے کے پراجیکٹ منیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو نامزد کیا گیا ہے، جن پر غفلت اور لاپرواہی کے باعث مین ہول کھلا چھوڑنے کا الزام ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ساجد کو واقعے کی اطلاع ان کے بیٹے کو اس کے بہنوئی کی جانب سے کی گئی فون کال کے ذریعے ملی۔ واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جو طویل کوششوں کے بعد جمعرات کو مکمل ہوا۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ 24 سالہ خاتون سعدیہ کی لاش جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی، جبکہ اس کی 10 ماہ کی بیٹی ردا کی لاش تقریباً آٹھ کلومیٹر دور سگیان کے قریب سے برآمد ہوئی۔

یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے پیش آیا، جب خاندان داتا دربار کے قریب کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر خاتون اور شیر خوار بچی جاں بحق، تین افراد گرفتار دربار کی زیارت کے بعد واپس جا رہا تھا۔ مقتولہ کے شوہر غلام مرتضیٰ کے مطابق رکشہ میں سوار ہوتے وقت دھکم پیل کے باعث اس کی اہلیہ اور بچی کھلے مین ہول میں جا گریں، جنہیں تیز بہتے بارشی پانی نے بہا دیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق تلاش کا عمل تقریباً 17 گھنٹے جاری رہا، جس کے بعد دونوں لاشیں مل سکیں۔ بعد ازاں مایو اسپتال کے مردہ خانے میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

پنجاب کے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس نے مردہ خانے کا دورہ کیا اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا۔ پولیس نے واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔

دریں اثنا واقعے سے قبل خاندان کی داتا دربار کے قریب کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر خاتون اور شیر خوار بچی جاں بحق، تین افراد گرفتار دربار سے واپسی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جسے تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی نگرانی میں انکوائری کا حکم دیا اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد ٹیپا ڈائریکٹر شبیر حسین، پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ غفلت ثابت ہونے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں