اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران کا سامنا، سیکریٹری جنرل کی فوری ادائیگیوں کی اپیل

0
9

ویب ڈیسک (ایم این این) — اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ سالانہ واجبات کی عدم ادائیگی اور مالی نظام میں خامیوں کے باعث اقوام متحدہ کو “فوری مالی انہدام” کا خطرہ لاحق ہے۔

الجزیرہ کے مطابق گوتریس نے رواں ہفتے تمام رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں کہا کہ عالمی ادارہ سنگین مالی بحران سے دوچار ہے اور اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو تنظیم کے لیے اپنے معمول کے کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے واجبات فوری طور پر ادا کریں۔

جمعہ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے کہا کہ صورتحال نہایت نازک ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادائیگی کے معاملے میں اب یا کبھی نہیں کی صورتحال ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے پاس پہلے کی طرح نقد ذخائر اور مالی گنجائش موجود نہیں رہی۔

ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل ہر سال بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ اس مسئلے کی نشاندہی کرتے آ رہے ہیں، تاہم مالی مشکلات بدستور سنگین ہوتی جا رہی ہیں۔

اگرچہ گوتریس نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، تاہم یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کثیرالجہتی اداروں کے لیے امریکی فنڈنگ میں نمایاں کمی کے اقدامات کیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے اور ایک متبادل “بورڈ آف پیس” اقدام متعارف کرایا ہے، جسے ناقدین اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے اقوام متحدہ امور کے ڈائریکٹر لوئس شاربونو نے خبردار کیا کہ یہ مجوزہ بورڈ ایک قسم کا پیسے کے عوض شمولیت کا عالمی کلب معلوم ہوتا ہے، جس میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔

اقوام متحدہ کے بنیادی بجٹ میں امریکہ کا حصہ 22 فیصد جبکہ چین کا حصہ 20 فیصد ہے۔ تاہم 2025 کے اختتام تک واجب الادا رقوم کی مالیت ریکارڈ 1.57 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، اگرچہ کن ممالک نے ادائیگی نہیں کی، اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔

گوتریس نے خبردار کیا کہ اگر رکن ممالک نے بروقت مکمل ادائیگیاں نہ کیں تو اقوام متحدہ کے مالی قوانین میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہوں گی، بصورت دیگر تنظیم کے انہدام کا خطرہ ہے۔

جنوری کے اوائل میں اقوام متحدہ نے 2026 کے لیے 3.45 ارب ڈالر کا بجٹ منظور کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سات فیصد کم ہے۔ اس کے باوجود سیکریٹری جنرل نے متنبہ کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو تنظیم جولائی تک نقدی سے محروم ہو سکتی ہے۔

خط میں ایک پرانے مالی ضابطے کو بھی مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کو ہر سال غیر استعمال شدہ رقوم رکن ممالک کو واپس کرنا ہوتی ہیں۔ گوتریس کے مطابق یہ ایسا نظام ہے جس میں ادارہ ایسی رقم واپس کرنے کا پابند ہے جو درحقیقت اس کے پاس موجود ہی نہیں۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعرات تک 193 میں سے صرف 36 رکن ممالک نے 2026 کے لیے اپنے مکمل واجبات ادا کیے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں