راولپنڈی (ایم این این) – صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، پاکستان پیپلز پارٹی کے میڈیا ونگ نے تصدیق کی ہے۔
بیان کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ اتوار کو سہ پہر 3 بجے ان کے آبائی گاؤں چیچیاں، میرپور میں ادا کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996 میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے، جبکہ 2021 میں انہیں صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب کیا گیا۔ وہ میرپور سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی نو مرتبہ منتخب ہوئے۔
ان کا انتقال یومِ یکجہتی کشمیر سے چند روز قبل ہوا ہے، جو ہر سال 5 فروری کو کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی سے بھرپور یکجہتی کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک دانا اور مخلص سیاستدان قرار دیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ مرحوم نے پوری زندگی آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت اور مسئلہ کشمیر کے لیے جدوجہد میں صرف کی، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور بلند درجات کی دعا کی۔ ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق صدر زرداری نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی قومی اور سیاسی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی صدر آزاد کشمیر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک باوقار اور اصول پسند سیاستدان تھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی سیاسی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی مرحوم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق انہوں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاسی و سماجی خدمات، بالخصوص مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔


