ویب ڈیسک (ایم این این) – ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا، اسرائیل اور بعض یورپی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران جان بوجھ کر کشیدگی کو ہوا دی اور ایران کے اندرونی مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو اکسایا۔
سرکاری اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کے مطابق ہفتے کے روز قوم سے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا کہ بیرونی طاقتوں نے معصوم لوگوں کو اس تحریک کا حصہ بنایا اور انہیں سڑکوں پر لا کر ملک کو توڑنے، عوام کے درمیان نفرت اور تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ عام احتجاج میں اسلحہ نہیں اٹھایا جاتا، سکیورٹی اہلکاروں کو قتل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ایمبولینسوں اور بازاروں کو نذرِ آتش کیا جاتا ہے۔ صدر نے کہا کہ حکومت مظاہرین سے بات چیت، ان کے تحفظات سننے اور مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض سماجی احتجاج تک محدود نہیں تھا بلکہ غیر ملکی طاقتوں نے ایران کے مسائل سے فائدہ اٹھا کر معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں یا عام شہریوں کی تھی جنہیں مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے قتل کیا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے ہیں جبکہ ایک امریکی بحری جنگی بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم دھمکیوں کے سائے میں بات چیت ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گی۔
جمعے کے روز امریکا نے احتجاجی واقعات پر ایران کے وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام پر نئی پابندیاں عائد کیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر افسران اور تاجر بابک زنجانی بھی شامل ہیں، جبکہ ان سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینجز کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔


