افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی پاکستان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، پاکستانی مندوب کا اقوام متحدہ میں انتباہ

0
3

واشنگٹن (ایم این این) – اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان سے سرحد پار دہشت گرد حملوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔

ان کے یہ بیانات بلوچستان میں ہفتے کے روز ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے تناظر میں سامنے آئے، جن کے بعد اتوار کو بھی کلیئرنس آپریشن جاری رہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گرد مارے گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کیے، جس کی اصطلاح ریاست کی جانب سے بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے افغان طالبان پر الزام دہرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں، جبکہ انہوں نے بھارت کی جانب سے پراکسی عناصر کی مسلسل حمایت کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے درست طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان سے توقع رکھتی ہے کہ افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وعدہ دوحہ معاہدے کا بنیادی حصہ تھا، جو تاحال پورا نہیں ہوا۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان نے یہ ذمہ داری قبول کی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، تاہم سفیر نے کہا کہ طالبان اس وعدے پر عملدرآمد میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے امریکی جریدے فارن افیئرز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان افغانستان سرحد کو جنوبی ایشیا کا سب سے تشویشناک فلیش پوائنٹ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 پاکستان کے لیے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونی سال رہا، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت مختلف گروہوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مستقبل قریب میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے طالبان اور ٹی ٹی پی کے قریبی نظریاتی و عملی روابط پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بھارت کے ساتھ طالبان کے بڑھتے روابط خطے کی سلامتی کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے عناصر کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف ان کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس خطرے کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرات پر سلامتی کونسل کے متعدد ارکان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس امر کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ طالبان کے دور میں افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں