اسپورٹس ڈیسک (ایم این این) – نوواک جوکووچ کو 2-6، 6-2، 6-3 اور 7-5 سے شکست دے کر اپنا پہلا آسٹریلین اوپن ٹائٹل جیتنے کے بعد کارلوس الکاراز نے کہا ہے کہ یہ کامیابی ان کے لیے خواب کی تعبیر ہے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے الکاراز نے کہا کہ وہ ہر سال آسٹریلیا آتے وقت ٹرافی جیتنے کا خواب دیکھتے تھے، مگر اس سے قبل کوارٹر فائنل سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار وہ زیادہ بھوک، عزم اور ذہنی مضبوطی کے ساتھ میدان میں اترے اور صرف اچھی ٹینس کھیلنے پر توجہ دی، جس کا نتیجہ ٹائٹل کی صورت میں نکلا۔
الکاراز نے فائنل میں نوواک جوکووچ کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوکووچ کا ایک اور گرینڈ سلام فائنل کھیلنا، تمام شکوک کے باوجود شاندار ٹینس پیش کرنا، ناقابلِ یقین اور متاثر کن ہے۔
کیریئر گرینڈ سلام مکمل کرنے پر بات کرتے ہوئے الکاراز نے کہا کہ اس سال انہوں نے سیکھا ہے کہ زندگی کے ہر لمحے، جیت اور ہار دونوں کو سراہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرافی اٹھانے کے ساتھ ساتھ ٹورنامنٹس کھیلنا، کامیابیاں اور ناکامیاں سب زندگی کا حصہ ہیں، اور تاریخ کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز ہے۔
مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہوئے الکاراز نے کہا کہ وہ اس کامیابی کی یاد میں ایک کینگرو کا ٹیٹو بنوانا چاہتے ہیں، جو ان کے فرانسیسی اوپن یا ومبلڈن کے ٹیٹو کے قریب ہوگا، تاہم جگہ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔


