خامنہ ای کا امریکا کو حملے کی صورت میں “علاقائی جنگ” کی وارننگ، کشیدگی میں اضافہ

0
5

تہران (ایم این این) – ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں پورے خطے میں جنگ چھڑ سکتی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔

تہران کے وسط میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس بار جنگ کی صورت میں تنازع صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ انہوں نے امریکا پر ایران کے تیل اور گیس کے وسائل پر قبضے کی خواہش کا الزام بھی عائد کیا۔

سپریم لیڈر نے حالیہ حکومت مخالف احتجاج کو بغاوت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران ریاستی اداروں، بینکوں، مساجد اور سیکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد نظام کو کمزور کرنا تھا، تاہم یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔

خامنہ ای کے بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو حالات کا خود اندازہ ہو جائے گا۔

یہ احتجاج دسمبر کے آخر میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شروع ہوئے، جو بعد ازاں سیاسی آزادیوں کی کمی، توانائی بحران اور ماحولیاتی مسائل کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کم تعداد ظاہر کی اور غیر ملکی عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت جلد تمام ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات جاری کرے گی تاکہ مبینہ غلط اعداد و شمار کا جواب دیا جا سکے۔

ملک کے اندر کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ خواتین کو جلد موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دی جائے گی، جو اب تک قانوناً ممنوع تھی۔

دوسری جانب یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر ایرانی پارلیمان میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں ارکان نے امریکا مخالف نعرے لگائے۔ ایران نے جواباً یورپی یونین کی مسلح افواج کو کالعدم قرار دیا۔

انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر تہران میں آئی آر جی سی اور فوجی دستوں کی پریڈ بھی ہوئی، جسے طاقت کے اظہار اور مزاحمتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں