ویب ڈیسک (ایم این این) – کریملن نے منگل کو کہا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ پیغام یا اشارہ موصول نہیں ہوا، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی تجارتی ڈیل کے بعد ایسا دعویٰ کیا تھا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت صحافیوں کو بتایا کہ اب تک نئی دہلی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو بھارت کے فیصلے میں کسی تبدیلی کی اطلاع نہیں ملی۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر محصولات کم کیے جا رہے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے باعث روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ مغربی پابندیوں کے باعث روسی تیل رعایتی نرخوں پر دستیاب رہا۔
یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو روسی معیشت اور فوج کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بھارتی مصنوعات پر محصولات کم کر کے 18 فیصد کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل کئی اشیا پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کیے گئے تھے، جن میں روسی تیل کی خریداری سے متعلق ایک اضافی ٹیکس بھی شامل تھا۔
اگرچہ وزیراعظم مودی نے ٹرمپ کے ساتھ فون کال کو خوش آئند قرار دیا اور محصولات میں نرمی پر شکریہ ادا کیا، تاہم انہوں نے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے کسی وعدے کا ذکر نہیں کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں روس بھارت کی کل خام تیل درآمدات کا تقریباً 36 فیصد فراہم کر رہا تھا، جو یومیہ تقریباً 18 لاکھ بیرل بنتا ہے۔ تاہم امریکی محصولات کے بعد روس سے بھارت کی ماہانہ تیل درآمدات میں 38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کا حوالہ بھارتی وزارت تجارت و صنعت کے اعداد و شمار کو دیا گیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2025 کے اواخر میں نئی دہلی کے دورے کے دوران بھارت کو تیل کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
روس اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت 2024-25 میں 68.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو وبا سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ اس تجارت میں زیادہ تر حصہ روسی توانائی برآمدات کا ہے، جبکہ بھارت کی روس کو برآمدات پانچ ارب ڈالر سے بھی کم رہیں۔


