اسلام آباد (ایم این این) – قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جس کا مقصد پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
صدر توقایف کا راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استقبال کیا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق معزز مہمان کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
قازق صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے، جس میں سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ صدر توقایف کے دفتر کی جانب سے جاری ویڈیو میں اسلام آباد کی سڑکوں کو قازقستان کے قومی پرچموں سے سجا ہوا دکھایا گیا۔
صدراتی سیکریٹریٹ کے مطابق صدر آصف علی زرداری قازقستان اور ازبکستان کے صدور کو نشانِ پاکستان، ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز، عطا کریں گے، جبکہ ازبک صدر کے رواں ماہ پاکستان کے دورے کا بھی امکان ہے۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر توقایف صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان-قازقستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کو دو طرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کا بروقت موقع فراہم کرے گا۔ بات چیت میں تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط اور علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون پر توجہ دی جائے گی۔
حکام کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ دورہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان زمینی پل کے طور پر اپنی حیثیت کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا، جبکہ قازقستان کے لیے روس-یوکرین جنگ کے بعد یوریشیا میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی تجارت کو متنوع بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
ادھر قازقستان کے وزیر برائے سائنس و اعلیٰ تعلیم سیاسات نوربیک پہلے ہی پاکستان کے دورے پر موجود ہیں۔ پیر کو دونوں ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان آٹھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد مشترکہ تحقیق، فیکلٹی و طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تعلیمی پروگرامز اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔
اس تعاون کے تحت اسلام آباد کی تین سرکاری جامعات میں قازقستان تعلیمی مراکز کا افتتاح بھی کیا گیا۔
گزشتہ ستمبر میں قازقستان کے نائب وزیراعظم مراد نورتلیو کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایکشن پلان آف کوآپریشن پر بھی دستخط کیے تھے۔


