خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں اور سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

0
1

پشاور (ایم این این): خیبرپختونخوا حکومت نے منگل کے روز صوبے کے بعض اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور سیکیورٹی آپریشنز کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ پشاور میں کور ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، قومی سلامتی کے مشیر، پشاور کور کمانڈر اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال پاکستان سپر لیگ کے میچز پشاور میں کرائے جائیں گے۔

بیان کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کی نگرانی میں صوبائی گورننس ماڈل نافذ کیا جائے گا، جسے مرحلہ وار متاثرہ اضلاع بالخصوص خیبر، اورکزئی اور کرم میں لاگو کیا جائے گا۔

ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور سیکیورٹی آپریشنز کے جائزے کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کی جائے گی، جو ماہانہ اجلاس منعقد کرے گی۔

خصوصی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندے، پشاور کور کمانڈر، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مستقل آمدن کو یقینی بنانے اور عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کی بھی ذمہ دار ہو گی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ، مکمل ہم آہنگی اور متحدہ مؤقف اپنایا جائے۔

اجلاس میں نوجوانوں کو انتہا پسندانہ سوچ سے بچانے کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور غیر قانونی سمز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر بھی توجہ دی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے منعقدہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جامع انسداد دہشت گردی پالیسی کی کامیابی کے لیے وفاقی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت، تعاون اور ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی اضافے اور فتنۃ الخوارج کے خاتمے کے لیے حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہلاکتوں کی تعداد 2024 میں 1,620 سے بڑھ کر 2025 میں 2,331 ہو گئی، جو تشدد میں نمایاں اضافے کی عکاس ہے۔

سیکیورٹی اور معاشی فیصلے

وزیراعلیٰ کے معاون برائے تعلقات عامہ شفیع جان نے ویڈیو بیان میں کہا کہ اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور امن و امان اور معیشت سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں قانون نافذ کرنے والے اداروں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے حوالے کرے گی۔

انہوں نے اس فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے صوبے بالخصوص مالاکنڈ کے عوام کے لیے خوش آئند خبر ہے اور اس سے پولیس پر اعتماد کی بحالی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور فیصلہ یہ ہوا کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلایا جائے گا، جہاں سول و عسکری قیادت انہیں اعتماد میں لے گی اور ان کی تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی اپیکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں کو وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے قبل یقینی بنایا جائے گا اور وہاں ان کی توثیق کی جائے گی۔

شفیع جان نے کہا کہ بعض اضلاع میں امن و امان بہتر ہونے پر مقامی خدمات مرحلہ وار سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

معاشی فیصلوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ اجلاس نہایت خوشگوار ماحول میں ہوا اور صوبے کو درپیش مالی مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے جنوری میں وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط اور گزشتہ ہفتے کی ملاقات میں اٹھائے گئے نکات بھی اجلاس میں زیر بحث آئے۔

مزمل اسلم نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری ہو جاتا تو خیبرپختونخوا کے کئی مسائل حل ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے وسائل کم ملنے کے باعث صوبائی حکومت کو ضم شدہ اضلاع کے لیے اپنے محدود وسائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں اور فیصلہ کیا گیا کہ ان سفارشات کو وفاقی حکومت کے سامنے رکھ کر صوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ ریلیف حاصل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی آپریشنز یا افغانستان کے ساتھ تجارت میں رکاوٹ کے باعث متاثر ہونے والے افراد کے لیے متبادل انتظامات اور مالی معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں