PSL 11 کی پہلی پلیئر نیلامی، نسیم شاہ 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں راولپنڈی کے نام

0
1

لاہور (ایم این این) پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کی تاریخ کی پہلی پلیئر نیلامی لاہور میں جاری ہے جہاں فاسٹ بولر نسیم شاہ کو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے کی ریکارڈ بولی کے ساتھ راولپنڈی نے حاصل کر لیا۔ یہ نیلامی کی سب سے بڑی بولی رہی۔

کئی اہم کھلاڑیوں جن میں فخر زمان، ڈیوڈ وارنر اور محمد عامر شامل ہیں، کی بولی مکمل ہونے کے بعد تقریب میں مختصر وقفہ کیا گیا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ سیزن میں ڈرافٹ سسٹم کی جگہ نیلامی کا نیا ماڈل اپنایا جائے گا۔

وکٹ کیپرز اور بلے بازوں کی نیلامی

وکٹ کیپرز کی بولی کا آغاز اعظم خان سے ہوا جن کی بنیادی قیمت ایک کروڑ 10 لاکھ روپے مقرر تھی۔ سیالکوٹ اسٹالینز نے 3 کروڑ 15 لاکھ جبکہ کراچی کنگز نے 3 کروڑ 25 لاکھ روپے کی آخری بولی دے کر اعظم خان کو حاصل کر لیا۔

تاہم سیالکوٹ اسٹالینز نے کراچی کنگز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے صاحبزادہ فرحان کو 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خرید لیا۔

سری لنکا کے دنیش چندیمل اور ویسٹ انڈیز کے جانسن چارلس بغیر کسی بولی کے فروخت نہ ہو سکے، جبکہ سابق سری لنکن کپتان کوشل مینڈس بھی ان سولڈ رہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے خواجہ محمد نفے کو 6 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

فاسٹ بولرز میں مقابلہ، حارث رؤف لاہور کے پاس برقرار

فاسٹ بولرز کی کیٹیگری میں محمد علی کو آخری لمحے میں 2 کروڑ 15 لاکھ روپے میں حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین نے حاصل کیا، جبکہ راولپنڈی کی بولی 2 کروڑ 5 لاکھ تھی۔

کرس جورڈن اور محمد حسنین کو کوئی خریدار نہ ملا۔

لاہور قلندرز نے حارث رؤف کو 7 کروڑ 60 لاکھ روپے میں برقرار رکھا، جب کہ راولپنڈی نے 7 کروڑ 45 لاکھ تک بولی لگائی تھی۔

نسیم شاہ کے لیے کراچی کنگز نے 6 کروڑ 50 لاکھ سے بولی کا آغاز کیا، جس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ نے 6 کروڑ 65 لاکھ کی پیشکش کی۔ طویل مقابلے کے بعد راولپنڈی نے 8 کروڑ 65 لاکھ روپے کی بولی لگا کر کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

راولپنڈی نے محمد عامر کو بھی 5 کروڑ 40 لاکھ روپے میں حاصل کیا، جبکہ بنگلہ دیشی اسپنر رشاد حسین 3 کروڑ روپے میں راولپنڈی کے حصے میں آئے۔

مامون امتیاز، علی مجید، مومن قمر، پیٹر ہیٹزوگلو اور عارف یعقوب کو کوئی بولی نہ مل سکی، جبکہ فیصل اکرم 1 کروڑ 25 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو مل گئے۔

ڈیوڈ وارنر کراچی کے، فخر زمان لاہور کے پاس

دوسرے راؤنڈ میں بارباڈوس کے کائل میئرز 1 کروڑ 10 لاکھ کی بنیادی قیمت پر ان سولڈ رہے۔

لاہور قلندرز نے فخر زمان کو 7 کروڑ 95 لاکھ روپے میں پشاور زلمی کے مقابلے میں برقرار رکھا۔

آسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر کو کراچی کنگز نے 7 کروڑ 90 لاکھ روپے میں حاصل کیا، جب کہ پشاور زلمی بھی دوڑ میں شامل تھی۔

نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل اس راؤنڈ کی بڑی خرید ثابت ہوئے جنہیں راولپنڈی نے 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں سائن کیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے رائیلی روسو کو 5 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ راسی وین ڈر ڈوسن کو کوئی بولی نہ ملی۔

آل راؤنڈرز میں بڑی بولیاں

آل راؤنڈرز کی نیلامی میں فہیم اشرف کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بلند ترین بولی کے ساتھ حاصل کیا، ان کی بنیادی قیمت 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

عماد وسیم اور بنگلہ دیش کے مہدی حسن مرزا کو کوئی ٹیم نہ مل سکی۔

حسین طلعت، آصف آفریدی، دانش عزیز اور محمد ذیشان بھی بغیر بولی رہ گئے۔

عامر جمال کو پشاور زلمی نے 1 کروڑ 90 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ لاہور قلندرز نے اسامہ میر کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کپتان سلمان علی آغا کے لیے سخت مقابلہ ہوا، تاہم 5 کروڑ 85 لاکھ روپے کی آخری بولی کے ساتھ کراچی کنگز کامیاب رہے۔

پی ایس ایل سی ای او کا خطاب اور نیلامی کی تفصیلات

تقریب کے آغاز پر پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل 10 کے اختتام کے بعد تجارتی معاہدے ختم ہو چکے تھے اور نئے چیلنجز درپیش تھے، تاہم پی سی بی اور پی ایس ایل ٹیموں کی محنت سے آج یہ مرحلہ ممکن ہوا۔

پی سی بی کے مطابق 800 سے زائد کھلاڑیوں نے نیلامی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔ پلیٹینم کیٹیگری کی بنیادی قیمت 4 کروڑ 20 لاکھ، ڈائمنڈ 2 کروڑ 20 لاکھ، گولڈ 1 کروڑ 10 لاکھ جبکہ سلور اور ایمرجنگ کیٹیگری 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

کم از کم اضافی بولی کی حد 2 لاکھ 50 ہزار سے شروع ہو کر 15 لاکھ روپے تک رکھی گئی ہے، تاہم فرنچائزز اس سے زیادہ بولی دینے کی مجاز ہیں۔

ہر ٹیم کے اسکواڈ میں کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد 5 سے 7 تک ہو سکتی ہے۔ پلیئنگ الیون میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار غیر ملکی کھلاڑی شامل کرنا لازمی ہوگا۔

ہر اسکواڈ میں کم از کم دو ان کیپڈ انڈر 23 کھلاڑی اور پلیئنگ الیون میں ایک انڈر 23 کھلاڑی شامل کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کھلاڑیوں کے ساتھ دو سالہ معاہدے ہوں گے۔ پی ایس ایل 11 کے بعد فرنچائزز زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑی برقرار رکھ سکیں گی، جبکہ پی ایس ایل 12 کے بعد گرینڈ آکشن ہوگا جس میں صرف پانچ ریٹینشن کی اجازت ہوگی۔

فرنچائزز کو 45 کروڑ روپے کا پرس دیا گیا ہے جسے براہ راست سائن کیے گئے غیر ملکی کھلاڑی کی صورت میں 50 کروڑ 50 لاکھ روپے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

ٹورنامنٹ 26 مارچ سے 3 مئی تک جاری رہے گا۔ آئندہ سیزن میں دو نئی ٹیمیں، حیدرآباد اور سیالکوٹ، بھی شامل ہوں گی جس کے بعد ٹیموں کی مجموعی تعداد آٹھ ہو جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں