جاپان، یو این ہیبی ٹیٹ اور جائیکا کا خیبر پختونخوا میں اسکولوں کی بحالی کے لیے معاہدہ

0
3

اسلام آباد (ایم این این) حکومت جاپان، اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی انفراسٹرکچر کو آفات سے محفوظ بنانے کے منصوبے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

11 فروری 2026 کو ہونے والی تقریب میں ایکسچینج آف نوٹس اور گرانٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس منصوبے کے لیے جاپان کی حکومت نے 427 ملین ین، جو تقریباً 27 لاکھ ڈالر بنتے ہیں، کی گرانٹ فراہم کی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی

جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث خیبر پختونخوا موسمیاتی خطرات کا شکار رہتا ہے۔ 2025 میں ہونے والے کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں صوبے کے 437 اسکول متاثر ہوئے، جن میں سوات اور بونیر سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع تھے۔

منصوبے کے تحت سوات اور بونیر کے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی مرمت اور مضبوطی کا کام کیا جائے گا تاکہ محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول بحال کیا جا سکے۔ اسکول عمارتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہوا اور روشنی کے بہتر انتظامات کیے جائیں گے جبکہ طالبات اور خصوصی افراد کے لیے باوقار اور قابل رسائی واش سہولیات بھی بحال کی جائیں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جاپان کے سفیر آکاماسو شوئیچی نے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ مضبوط تعلیمی ڈھانچہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔

یو این ہیبی ٹیٹ کی علاقائی ڈائریکٹر کازوکو ایشیگاکی نے کہا کہ مضبوط اور محفوظ کلاس رومز، بہتر وینٹی لیشن اور بنیادی واش سہولیات بچوں کو بااعتماد ماحول فراہم کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسکول مقامی سطح پر آفات سے نمٹنے اور ابتدائی طبی امداد کے مراکز کے طور پر بھی کام کریں گے۔

جائیکا کے نمائندے سوگاوارا تاکایوکی نے کہا کہ یہ منصوبہ “بلڈ بیک بیٹر” کے اصول کے تحت ہے تاکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے نقصانات سے بچا جا سکے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے رہائشی و انسانی ہمدردی کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے اس اقدام کو سینڈائی فریم ورک اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی تعاون فریم ورک کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیا۔

یہ مشترکہ اقدام آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں کمی لانے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی تحفظ کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں