اسلام آباد (ایم این این): وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کے شہدا اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کر دیا۔
وزیر اعظم نے بدھ کے روز جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ 6 فروری کو وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں کم از کم 38 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
وزیر اعظم نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرنے والے عون عباس کے لیے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ ہر شہید کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو جو اسپتال میں زیر علاج ہیں 30 لاکھ روپے جبکہ معمولی زخمیوں کو جو اسپتال سے فارغ ہو چکے ہیں 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور انہوں نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو بدترین سفاکیت قرار دیا اور کہا کہ پوری قوم اس سانحے پر سوگوار ہے۔
متاثرہ خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر کی فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے تمام مذہبی رہنماؤں کی جانب سے واقعے کی متفقہ مذمت کو سراہا۔
وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی بھی تعریف کی۔ بعد ازاں انہوں نے عون عباس کی رہائش گاہ پر جا کر تعزیت بھی کی۔


