سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ میں عمران خان کی جیل صورتحال اور صحت کی تفصیلات سامنے آگئیں

0
3

اسلام آباد (ایم این این) – سپریم کورٹ میں امیکس کیوری مقرر کیے گئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی سات صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں رہائش، سہولیات اور طبی صورتحال کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

عدالت نے وکیل کو ہدایت کی تھی کہ وہ پی ٹی آئی بانی سے ملاقات کرکے حراستی حالات پر رپورٹ پیش کریں۔ رپورٹ میں روزمرہ معمولات، سیکیورٹی انتظامات، خوراک، طبی مسائل اور دستیاب سہولیات کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق احاطے میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جن پر عمران خان نے سیکیورٹی کے پیشِ نظر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ سیل کے ساتھ 30 ضرب 12 فٹ کا سبزہ زار موجود ہے جہاں انہیں دھوپ تک محدود رسائی حاصل ہے۔

سیل میں ایک سنگل گدا، چار تکیے اور دو کمبل موجود ہیں۔ ذاتی سامان میں تقریباً 100 کتابیں، جائے نماز، تسبیح، تولیے، شیو کٹ اور پانچ جوڑے جوتے شامل ہیں۔ ورزش کے لیے محدود سامان اور دو ڈمبل بھی دستیاب ہیں۔

باتھ روم تقریباً ساڑھے چار فٹ مربع ہے جسے پانچ فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا ہے۔ گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت موجود ہے تاہم صفائی کے انتظامات میں بہتری کی گنجائش بتائی گئی ہے۔ چھت میں دو چھوٹے روشن دان ہیں مگر ایگزاسٹ سسٹم موجود نہیں۔ صفائی اور کپڑوں کے لیے ایک ملازم مقرر ہے۔

سردیوں میں ہیٹر اور گرمیوں میں روم کولر فراہم کیا جاتا ہے، لیکن شدید گرمی، حبس اور مچھروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ عمران خان نے بتایا کہ گرمیوں میں انہیں دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ ہوئی جبکہ ریفریجریٹر موجود نہیں، صرف کول باکس دستیاب ہے۔

وہ صبح تقریباً 9:45 بجے ناشتہ کرتے ہیں جس میں کافی، دلیہ اور کھجور شامل ہوتی ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت اور ورزش کے بعد انہیں مخصوص اوقات میں چہل قدمی کی اجازت ہے، جبکہ شام ساڑھے پانچ بجے سے صبح تک سیل میں محدود رہتے ہیں۔

ہفتہ وار مینو وہ خود منتخب کرتے ہیں اور اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔ ہفتے میں دو دن چکن اور دو دن گوشت شامل ہوتا ہے۔ بوتل بند پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ سیل کے اندر برتن رکھنے کی اجازت نہیں۔

صحت کے حوالے سے عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی معمول پر تھی، بعد ازاں دائیں آنکھ میں دھندلا پن اور خون جمنے کے باعث بینائی تقریباً 15 فیصد رہ گئی۔ انہوں نے تین ماہ تک صرف قطرے دیے جانے کا ذکر کیا اور ذاتی معالجین یا ماہر امراض چشم سے معائنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عمر کے پیش نظر باقاعدہ خون کے ٹیسٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بطور قیدی انہیں وہی طبی سہولیات ملیں گی جو دیگر قیدیوں کو حاصل ہیں، خصوصی رعایت نہیں۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ماہر امراض چشم تک رسائی اور بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کا انتظام 16 فروری سے قبل کر دیا جائے گا۔ عدالت نے اسپیشلسٹ سے معائنے کی اجازت دی تاہم اہلِ خانہ کی موجودگی میں معائنہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پانچ ماہ تک وکلا سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی اور اہلِ خانہ سے رابطہ بھی محدود تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد اب انہیں ہفتے میں ایک بار اہلیہ سے 30 منٹ کی ملاقات کی اجازت ہے، جبکہ 2025 میں دو مرتبہ بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں