بنوں (ایم این این) – کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے جمعرات کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے پپل بازار سے انتہائی مطلوب دہشت گرد اسامہ عرف باغی کو گرفتار کر لیا۔
سی ٹی ڈی بنوں کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فضل وحید کے مطابق ملزم کا تعلق ضلع بنوں سے ہے اور وہ حال ہی میں قائم ہونے والی تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کا سرگرم کمانڈر ہے، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور گل بہادر گروپ کے اشتراک سے تشکیل دی گئی ہے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر نو بڑی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ ان میں دسمبر 2025 میں میرانشاہ کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں وہ، ان کے دو سیکیورٹی گارڈز اور ایک شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے نومبر 2025 میں سابق ایس ایچ او بنوں عابد وزیر کے اغوا اور قتل کا بھی اعتراف کیا، جبکہ لکی مروت امن کمیٹی کے تین ارکان کے اغوا اور قتل میں بھی ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔
ایس پی کے مطابق اسامہ نے پپل داؤد شاہ سے دو فرنٹیئر کور اہلکاروں اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے علاوہ جون 2024 میں مامند خیل میں پولیو افسر اور ان کے گارڈ کے قتل میں بھی اس کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم حساس اداروں کی ریکی کرنے اور پولیس اہلکاروں کی خفیہ تصاویر و معلومات دہشت گردوں کو فراہم کرنے میں بھی ملوث رہا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پپل بازار اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی ناکے قائم کرنے کا بھی اعتراف کیا۔
پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور سہولت کاروں اور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کامیاب کارروائی پر ٹیم کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
دوسری جانب ڈومیل پولیس نے الگ کارروائی میں دو دہشت گردوں اور تین سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔ ڈی پی او یاسر آفریدی کے مطابق ملزمان نالہ کاشو اور پولیس پوسٹ خونیہ خیل پر سنائپر حملوں میں ملوث تھے، جن میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔


