پینٹاگون عہدیدار کا ‘نیٹو 3.0’ کا مطالبہ، یورپ کو دفاعی ذمہ داری سنبھالنے پر زور

0
1

برسلز (ایم این این) – امریکی محکمہ دفاع کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی نے نیٹو میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد کو “انحصار نہیں بلکہ شراکت داری” کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا اور یورپ کو اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔

جمعرات کو برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کولبی نے اتحاد میں “حقیقت پسندانہ جائزے اور بنیادی تبدیلی” کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کا موجودہ ڈھانچہ اب مؤثر نہیں رہا اور ایک نئے “نیٹو 3.0” کے تحت یورپی اتحادیوں کو روایتی دفاع میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی ترجیحات میں تبدیلی یورپ سے دستبرداری نہیں بلکہ “اسٹریٹجک حقیقت پسندی” اور اتحادیوں کی صلاحیتوں کے اعتراف کا اظہار ہے۔

کولبی نے کہا کہ امریکا اپنی توسیعی جوہری دفاعی ضمانت جاری رکھے گا اور محدود مگر مرکوز انداز میں نیٹو کے دفاع میں کردار ادا کرے گا، جبکہ تربیت، مشقوں اور منصوبہ بندی میں تعاون جاری رہے گا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اتحاد کے اندر ذمہ داریوں اور اخراجات کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اجلاس کو اپنی شرکت کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں امریکا کا جوہری تحفظ یورپ اور کینیڈا کی سلامتی کی حتمی ضمانت رہے گا، جبکہ یورپ میں امریکی روایتی فوجی موجودگی بھی برقرار رہے گی۔

روٹے نے بتایا کہ نیٹو ممالک نے یوکرین کے لیے ترجیحی ضروریات کی فہرست (پی یو آر ایل) کے تحت سینکڑوں ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے امریکی ساختہ اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور لیتھوانیا کا شکریہ ادا کیا اور مزید اعلانات کی توقع ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے مزید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹریاٹ سسٹم روسی بیلسٹک میزائلوں کے خلاف سب سے مؤثر ہیں اور ان کے لیے میزائلوں کی فراہمی تیز کی جانی چاہیے۔

زیلنسکی نے کہا کہ فضائی دفاعی پروگرام کے تحت جو کچھ طے ہے وہ جلد از جلد فراہم کیا جائے، اور اس سلسلے میں تعاون کرنے والے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں