امریکہ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شرکت پر جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے تحفظات

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینئر رہنماؤں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی ممکنہ شرکت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے اور فلسطینی مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ ردعمل جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انیس فروری کو بورڈ آف پیس کا اجلاس متوقع ہے اور اس کا مقصد اقوام متحدہ کو پس منظر میں دھکیلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس فورم میں شرکت کسی صورت مناسب نہیں اور عالمی طاقتیں فلسطینی کاز کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس عمل میں شریک نظر آتی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ عیدالفطر کے بعد ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی اور اگر حکومت نے امریکی پالیسیوں کی پیروی جاری رکھی تو اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر آئیں گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ کی رکنیت قبول کی ہے اور اجلاس میں شرکت پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے جس سے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کو غزہ میں افواج بھیجنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پاکستان کو کسی ایسے تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے جس سے پاکستان اور افغانستان کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو مذہبی اور سیاسی جماعتیں عوامی احتجاج کا راستہ اختیار کریں گی۔

ادھر دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف انیس فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق وزیراعظم پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ہوں گے۔ وفد کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

پاکستان بورڈ آف پیس کے بانی ارکان میں شامل ہے، جس کا قیام گزشتہ ماہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر دستخط کیے گئے چارٹر کے بعد عمل میں آیا۔ یہ ادارہ جنگ بندی کے بعد استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس اقدام میں نیک نیتی کے ساتھ اور آٹھ اسلامی عرب ممالک کے مشترکہ گروپ کا حصہ بن کر شمولیت اختیار کی ہے اور وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں