واشنگٹن (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تصدیق کی کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جلد کیریبین سے مشرق وسطیٰ روانہ ہوگا۔ یہ اعلان عمان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے بالواسطہ امریکا۔ایران مذاکرات کے بعد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس بہت بڑی فوجی قوت تیار ہوگی۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے تاہم خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یہ “ایران کے لیے برا دن” ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی “سب سے بہتر چیز” ہوگی۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی تعیناتی خطے میں جاری امریکی فوجی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں پہلے ہی یو ایس ایس ابراہم لنکن، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، لڑاکا طیارے اور نگرانی کے طیارے تعینات کیے جا چکے ہیں۔
ٹرمپ کے یہ بیانات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے چند روز بعد سامنے آئے۔ نیتن یاہو نے “اچھے معاہدے” کی امید ظاہر کی تاہم زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جسے تہران مسترد کر چکا ہے۔
جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد سے نیتن یاہو مزید فوجی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس جنگ کے دوران امریکا نے بھی مختصر طور پر ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جسے “مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا گیا۔ ٹرمپ نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ امریکی حملوں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
یہ حالیہ بالواسطہ مذاکرات جون کی جنگ کے بعد پہلی باضابطہ کوشش تھے، جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کے متبادل معاہدے پر بات چیت معطل ہو گئی تھی۔ جے سی پی او اے ایران، امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ٹرمپ نے 2018 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔
بعد ازاں ایران نے یورینیم کی افزودگی معاہدے میں طے شدہ حد سے بڑھا دی، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ جون کی جنگ کے بعد معائنہ کار ایران واپس تو آ گئے ہیں، مگر انہیں متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی گئی۔ انہوں نے میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے مذاکرات پیچیدہ اور مشکل ضرور ہیں، لیکن جاری ہیں۔
خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے سے خطے میں ایک اور بڑی جنگ بھڑک سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی غزہ کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہے۔


