نیوز ڈیسک (ایم این این) – ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو اعلان کیا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے تازہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان “رہنما اصولوں کے ایک مجموعے” پر وسیع اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کی بنیاد پر ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔
سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ مذاکرات گزشتہ دور کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور تعمیری ماحول میں ہوئے۔
انہوں نے کہا، “بالآخر ہم رہنما اصولوں کے ایک مجموعے پر وسیع اتفاق تک پہنچ گئے ہیں، جن کی بنیاد پر ہم آگے بڑھیں گے اور ممکنہ معاہدے کے متن پر کام شروع کریں گے۔”
ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات کا دوسرا دور تھا، جو اس ماہ کے آغاز میں دوبارہ شروع ہوا۔ گزشتہ سال مذاکرات اس وقت منقطع ہو گئے تھے جب جون میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد بارہ روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔
اس جنگ کے دوران امریکا نے بھی مختصر طور پر اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
تازہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کیا۔ یہ مظاہرے ابتدا میں معاشی مشکلات کے باعث شروع ہوئے تھے۔
عباس عراقچی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ رہنما اصولوں پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا، “اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عمل جلد مکمل ہو، اور ہم اس کے لیے مناسب وقت دینے کو تیار ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مؤقف میں موجود اختلافات کم کرنے میں وقت لگے گا، لیکن اب کم از کم ایک واضح راستہ اور اصول موجود ہیں جن کی بنیاد پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے خطاب میں کہا، “امریکی صدر نے اپنی حالیہ تقریر میں کہا کہ 47 برس سے امریکا اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ میں کہتا ہوں: آپ آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔”
آیت اللہ خامنہ ای نے خلیج میں امریکی جنگی جہاز کی تعیناتی پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ طیارہ بردار جہاز خطرناک ہتھیار ہے، لیکن اس کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہتھیار اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
انہوں نے مذاکرات کے نتائج پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے مطالبات کے ساتھ حقیقی مذاکرات کی گنجائش محدود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیانات، جو کبھی دھمکی آمیز اور کبھی احکامات دینے والے ہوتے ہیں، ایرانی قوم پر غلبہ پانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔
یوں ایک جانب ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب سپریم لیڈر کا سخت لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اب بھی گہری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا رہنما اصولوں پر اتفاق کسی ٹھوس معاہدے کی شکل اختیار کرتا ہے یا اختلافات ایک بار پھر مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیتے ہیں۔


