واشنگٹن: وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو امریکہ پہنچ گئے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ “بورڈ آف پیس” کے اجلاس میں شرکت کر سکیں، جبکہ پاکستان غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے کردار اور مینڈیٹ پر وضاحت چاہتا ہے۔
19 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم کا قیام 20 فروری تک متوقع ہے اور امریکی قیادت سے ملاقاتوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان واشنگٹن سے واضح یقین دہانیاں چاہتا ہے کہ اگر وہ غزہ میں فوج تعینات کرے تو اس کا کردار صرف امن قائم رکھنے تک محدود ہوگا اور حماس کو غیر مسلح کرنے جیسی کسی کارروائی کا حصہ نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ اجلاس کی صدارت کریں گے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کے ساتھ اقوام متحدہ کی منظوری سے ایک اسٹیبلائزیشن فورس کی تجویز پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف آئی ایس ایف کے مقاصد، قانونی اختیار اور کمانڈ سسٹم کو مکمل طور پر سمجھنے کے بعد ہی فوج بھیجنے کا فیصلہ کریں گے۔
ایک قریبی ذریعے نے کہا کہ پاکستان امن مشن کے طور پر ہزاروں فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی کردار میں شامل ہونا خارج از امکان ہے۔
گزشتہ ماہ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا تھا کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں شریک رہے گا اور فلسطین مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بورڈ جنوری کے آخر میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر متعارف کرایا تھا، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے غزہ کے لیے پائیدار معاہدے کی حمایت کی تھی۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت مسلم ممالک پر مشتمل ایک کثیر القومی فورس عبوری دور میں غزہ کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی۔ تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی مشن کی حمایت نہیں کرے گا، اگرچہ وہ امن کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔


