دہلی (ایم این این): فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اور بھارت دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس کے تحت رافیل لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مشترکہ تیاری کا منصوبہ زیر غور ہے، جبکہ فرانس مزید آبدوزیں فروخت کرنے کا بھی خواہاں ہے۔
بھارت کے تین روزہ دورے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مزید 114 رافیل طیاروں کی متوقع خریداری دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس چاہتا ہے کہ ان طیاروں کی مشترکہ تیاری بھارت میں کی جائے۔
بھارتی وزارت دفاع کی ڈیفنس ایکوزیشن کونسل نے حال ہی میں فضائیہ کے لیے مزید 114 رافیل طیارے خریدنے کی اصولی منظوری دی ہے۔ یہ پیش رفت مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی اور جھڑپوں کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
بھارت اس سے قبل اپنی فضائیہ کے لیے 36 رافیل طیارے حاصل کر چکا ہے جبکہ بحریہ کے لیے 26 میرین ورژن بھی آرڈر کیے جا چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 114 نئے طیاروں کی ممکنہ لاگت تقریباً 3.25 کھرب بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے اور ان میں سے 90 تک طیارے بھارت میں مشترکہ منصوبے کے تحت تیار کیے جا سکتے ہیں۔
میکرون نے کہا کہ رافیل معاہدہ دوطرفہ شراکت داری کا اہم ستون ہے اور امید ظاہر کی کہ آبدوزوں کے شعبے میں بھی اسی نوعیت کا تعاون آگے بڑھے گا۔ بھارتی بحریہ اس وقت فرانس کی تیار کردہ چھ اسکارپین آبدوزیں استعمال کر رہی ہے اور مزید خریداری پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل میکرون اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت میں ایچ ایک سو پچیس ہیلی کاپٹر کی اسمبلنگ لائن کے قیام اور ہیمر میزائلوں کی مشترکہ تیاری کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔
رافیل طیارے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ تنازع کے دوران بھی موضوع بحث رہے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے جن میں رافیل بھی شامل تھے، جبکہ بھارت نے کچھ نقصانات کا اعتراف کیا مگر چھ طیاروں کے نقصان کی تردید کی۔
ستمبر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ پاک فضائیہ نے سات بھارتی طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔


