نیوز ڈیسک (ایم این این): یوکرین میں روس کی جانب سے لڑنے کے لیے مبینہ طور پر دھوکے سے بھیجے گئے کینیا کے شہریوں کے اہل خانہ نے نیروبی میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہزار سے زائد افراد کو محاذِ جنگ پر بھیجا گیا۔
نیشنل انٹیلی جنس سروس کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر بعض سرکاری اہلکاروں اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نے ملی بھگت کر کے شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھانسے میں پھنسایا۔
وِنی روز وامبوئی نے بتایا کہ ان کے بھائی سیموئیل مائنا روس اس یقین کے ساتھ گئے کہ انہیں شاپنگ مال میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں جنگل سے بھیجی گئی ایک پریشان کن آواز کے پیغام کے بعد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
بدھ کو پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیمانی اچنگوا نے بتایا کہ ایک ہزار سے زائد کینیا شہری روس۔یوکرین جنگ میں بھرتی کیے گئے، جن میں سے 89 اس وقت محاذ پر موجود، 39 زخمی حالت میں اسپتالوں میں اور 28 لاپتا ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ خارجہ اور روسی سفارت خانے سمیت مختلف سرکاری اداروں کو درخواستیں جمع کرائیں گے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی جا رہی۔
روس کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں غیر قانونی بھرتیوں کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو گمراہ کن قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ روسی افواج میں غیر ملکی شہری رضاکارانہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھرتی کرنے والے ایجنٹس نے مبینہ طور پر ایئرپورٹ، امیگریشن اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مل کر سفری انتظامات کیے۔ ابتدائی طور پر افراد سیاحتی ویزوں پر ترکیہ یا متحدہ عرب امارات کے ذریعے روس گئے، بعد ازاں نگرانی سخت ہونے پر یوگنڈا، جنوبی افریقہ اور جمہوریہ کانگو کے راستے استعمال کیے گئے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ ہفتے 27 کینیا شہریوں کو روس میں پھنسنے کے بعد واپس لایا گیا۔ کینیا کے وزیر خارجہ موسالیا موڈاواڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ روس کا دورہ کر کے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔


