واشنگٹن (ایم این این) – امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا میں بیرونِ ملک سے آنے والی اشیا پر عائد عالمی محصولات کو دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کر دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب ریاستہائے متحدہ کی سپریم کورٹ نے ان کے وسیع محصولات کو بڑی حد تک کالعدم قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ صدر نے ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت زیادہ شرح کے محصولات عائد کرتے ہوئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد صدر نے تمام درآمدات پر دس فیصد یکساں محصول نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
نئے محصولات ایک الگ قانونی شق کے تحت عائد کیے گئے ہیں جو پندرہ فیصد تک محصول عائد کرنے کی اجازت دیتی ہے، تاہم ایک سو پچاس دن سے زیادہ مدت تک ان محصولات کو برقرار رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں عدالتی فیصلے کو غیر امریکی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ قانونی طور پر مجاز حد یعنی پندرہ فیصد تک محصولات بڑھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں نئے اور قانونی تقاضوں کے مطابق محصولات کا تعین اور اجرا کیا جائے گا تاکہ ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور امریکا کو پہلے سے زیادہ عظیم بنایا جائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات کا قانون صدر کو محصولات عائد کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد صدر کے لیے ایک بڑا عدالتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محصولات ہمیشہ سے بلا جواز تھے، جب کہ برطانیہ، جرمنی اور یورپی اتحاد سمیت دیگر تجارتی شراکت داروں نے محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔
محصولات صدر کی معاشی اور خارجہ پالیسی کا مرکزی جزو رہے ہیں اور ان کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز کے بعد عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان اقدامات سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔
انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ آئندہ دس برسوں میں یہ محصولات کھربوں ڈالر کی آمدن فراہم کر سکتے ہیں، تاہم چودہ دسمبر دو ہزار پچیس کے بعد سے محصولات کی وصولی سے متعلق سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔


