ڈی جی آئی ایس پی آر کا افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام، پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک کا انتخاب کریں

0
1

راولپنڈی (ایم این این) – پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ افغان طالبان کو واضح طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغان طالبان کی مبینہ بلا اشتعال جارحیت کے جواب پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں اور پاکستان کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کرچکی ہے اور پاکستان کا انتخاب ہمیشہ پاکستان ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور عوام نے اس مؤقف کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے ساتھ 53 مقامات پر فائرنگ اور حملے کیے۔ فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور تمام مقامات پر حملوں کو پسپا کیا۔ حملہ آوروں کے مسلح کواڈ کاپٹرز اور بھاری و ہلکے ہتھیار ناکارہ بنائے گئے۔

آپریشن غضب للحق کے تحت اب تک 274 طالبان اہلکار اور خوارج ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ 73 سرحدی چوکیاں تباہ اور18 پر قبضہ کیا گیا جبکہ 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں 22 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے مراکز موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہداف خفیہ معلومات کی بنیاد پر منتخب کیے گئے اور شہری نقصان سے بچنے کی پوری کوشش کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 12 پاکستانی فوجی شہید، ستائیس زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔

افغان میڈیا کی جانب سے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا جواب نہ صرف دہشت گردوں بلکہ ان کے سرپرستوں کو بھی دیا جائے گا اور کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔

دفتر خارجہ نے بھی بیان میں کہا کہ پاکستان نے یہ اقدامات اپنے دفاع کے حق کے تحت کیے ہیں اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں۔

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ افغان طالبان حکومت بھارتی پراکسی بن چکی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے کی جارہی ہے۔

ایبٹ آباد میں ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی جبکہ اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت دو ماہ کے لیے ڈرون اور بغیر پائلٹ طیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر تمام سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے اور دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنایا گیا تھا۔

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا ردعمل متناسب اور فیصلہ کن تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مکمل تیار ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی اجازت دینے والی کسی جگہ کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں