نیوز ڈیسک (ایم این این)- امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارہ دیا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے مجوزہ حملے نے واشنگٹن کی فوجی کارروائی کے وقت کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔
کانگریسی رہنماؤں کو بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ کو اسرائیلی کارروائی کا علم تھا اور یہ اندازہ تھا کہ تہران خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا، اس لیے امریکی افواج نے پیشگی اقدام کیا۔
ان کے مطابق اگر امریکہ پہلے کارروائی نہ کرتا تو زیادہ جانی نقصان کا خدشہ تھا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی فوج نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے نشانہ بنائے گئے ایک علاقائی مرکز سے مزید دو لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار اور سیکڑوں شہری جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد تہران نے خلیج اور دیگر علاقوں میں امریکی اڈوں اور اثاثوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ پہلا حملہ امریکہ اور اسرائیل نے کیا، تاہم واشنگٹن ایک فوری خطرے کو روکنے کے لیے اقدام کر رہا تھا کیونکہ اسرائیل ہر صورت ایران پر حملہ کرنے والا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی ان کے دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاونت سے کی جا رہی ہے اور یہ ان کا چالیس سالہ خواب تھا۔
روبیو کا کہنا تھا کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کا ذخیرہ بڑھا رہا تھا تاکہ اپنے جوہری پروگرام کا تحفظ کر سکے اور ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکے۔
یہ جنگ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کے ایک دور کے اختتام کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر شروع ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ فوری ہدف ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو تباہ کرنا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی عوام موجودہ نظام کو تبدیل کر کے نیا مستقبل قائم کریں تو امریکہ اس کا خیر مقدم کرے گا۔
بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ نے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، لبنان، شام، مصر، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت مشرق وسطیٰ کے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے روانہ ہونے کی ہدایت جاری کی، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرات کی عکاسی ہوتی ہے۔


