اسلام آباد (ایم این این): حکومت کے مطابق آپریشن غضب لی الحق کے دوران اب تک 481 افغان طالبان اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کو بتائی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ 4 مارچ شام 4 بجے تک 696 سے زائد افغان طالبان اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، 226 چیک پوسٹس تباہ اور 35 پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان میں 56 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ادھر لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل پکہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کمانڈر ہلاک ہو گیا۔ کارروائی پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کی۔
وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے ان کیمرہ بریفنگ کے بعد کہا کہ آپریشن کے اہداف تقریباً حاصل کر لیے گئے ہیں اور اب انہیں مستحکم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے مطابق انہوں نے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اداروں کے باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دوسری جانب برمل تحصیل، ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے نرگسائی میں قبائلی رہنما ملک سید اللہ وزیر کے بھائی قیوم کے گھر پر دو مارٹر گولے فائر کیے گئے۔ ایک گولہ مکان کے احاطے میں پھٹا جس سے عمارت اور ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ دوسرا گولہ نہیں پھٹا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پی ٹی وی کے مطابق دی نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے بگرام ایئر بیس پر حملے میں ایک طیارہ ہینگر اور دو گودام تباہ ہوئے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بیس پر موجود عمارتوں کو مسمار دکھایا گیا جو کبھی افغانستان میں بیس سالہ امریکی جنگ کا مرکز رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کے فوجی اہداف پر پچاس سے زائد حملے کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق بگرام پر حملہ افغان طالبان حکومت کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر کہیں بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔


