امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری، خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع

0
1

نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ہفتے سے اب تک کم از کم ایک ہزار دو سو تیس افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے مکمل انخلا کا حکم دے دیا ہے جہاں لاکھوں افراد رہائش پذیر ہیں اور اسے حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مقتول ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین بنانا “ناقابل قبول” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی آئندہ قیادت کے تعین میں امریکا کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کی سرحد کے قریب ممکنہ “دہشت گردانہ سرگرمیوں” سے خبردار کرتے ہوئے وہاں سکیورٹی مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا کرد فورسز سے رابطے میں ہے اور انہیں مسلح کر کے تہران کے خلاف بغاوت پر اکسانا چاہتا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کرد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں “باعزت اور باوقار” قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے ان کرد خاندانوں سے بھی اظہار ہمدردی کیا جن کے عزیز امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں ہلاک ہوئے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی حکام اور فوج بطور محافظانِ سلامتی کسی بھی علیحدگی پسند سرگرمی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ کرد فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکی حکام کے درمیان مستقبل کی عسکری کارروائیوں پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔

ایران کے سینئر عہدیدار علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا زمینی حملہ کرتا ہے تو ایران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار اور منتظر ہے۔

ادھر کوملہ پارٹی آف کردستان کے سیاسی بیورو کے سربراہ امجد حسین پناہی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت جلد ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف تحریکیں “آزاد زندگی کے لیے خواتین کے انقلاب” کے تحت ایران میں سیاسی تبدیلی کے لیے سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرد جماعتیں علیحدگی کی حامی نہیں بلکہ ایک ایسے غیرمرکزی ایران کی خواہاں ہیں جہاں کردوں، بلوچوں، عربوں، فارسیوں اور دیگر قومیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ انہوں نے سزائے موت کے خاتمے اور مادری زبان میں تعلیم کے حق کا بھی مطالبہ کیا۔

پناہی نے کہا کہ انہیں اب تک امریکا کی براہ راست حمایت حاصل نہیں ہوئی تاہم اگر ایسا ہوا تو ایرانی حکومت کے خلاف جدوجہد مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

جنگ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد کئی کارگو جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا بڑا راستہ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ فوج کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہے۔

اسی دوران عراق کے شمالی کرد علاقے دہوک میں ایک امریکی کمپنی کے زیر انتظام آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔

حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف متعدد جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس نے شمالی اسرائیل میں بحیرہ طبریہ کے مغرب میں واقع نفتالی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بوچھاڑ کی۔

تنظیم نے الگ بیانات میں کہا کہ جنوبی لبنان کے قصبے مرکبا کے قریب اسرائیلی فوجی گاڑیوں کے اجتماع کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ شمالی اسرائیل کے علاقے کفر یووال میں اسرائیلی فوجیوں پر راکٹ لانچر سے حملہ کیا گیا۔

حزب اللہ کے مطابق یہ حملے لبنان پر جاری اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں