امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے پر یورپی ممالک ایران کا ہدف بن سکتے ہیں

0
2

نیوز ڈیسک (ایم این این) – ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں میں شامل ہوئے تو انہیں “جائز فوجی ہدف” سمجھا جائے گا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ اگر یورپی یونین کا کوئی ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک ہوتا ہے تو اسے اس جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں ایران ان ممالک کو جائز فوجی ہدف تصور کرے گا اور ان کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو خدشہ ہے کہ مغربی ممالک اس جنگ میں مزید کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر مشترکہ حملے کیے تھے، جن کا مقصد ایران کے عسکری ڈھانچے اور قیادت کو کمزور کرنا بتایا گیا تھا۔

ان حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس صورتحال نے پورے خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران جنگ کو مزید وسعت دینا نہیں چاہتا، تاہم اگر دیگر ممالک اس فوجی مہم میں شامل ہوئے تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ ان کے مطابق یورپی ممالک کی براہِ راست شمولیت انہیں اس تنازع کا حصہ بنا دے گی۔

ایرانی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے بلا اشتعال تھے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی ممالک اس بحران کے حوالے سے اپنے مؤقف پر غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی سفارتی حمایت کی ہے، تاہم بیشتر یورپی رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک براہ راست اس جنگ میں شامل ہوئے تو یہ تنازع عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر خطوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس کشیدگی کے باعث بے چینی دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی تنظیمیں اور عالمی رہنما فوری سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں تاکہ اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع خطے سے نکل کر عالمی سطح کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں